فوج اور سول حکومت میں کوئی تصادم نہیں،17ویں کے خاتمے کے لئے 200فیصد سنجیدہ ہیں،وزیر اعظم ،پولیس اور ایف سی شہدا ء کے لواحقین کے لئے امداد 5لاکھ سے بڑھا کر 20لاکھ روپے کردی گئی ہے، فوج،عدلیہ اور پارلیمنٹ اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کر رہے ہیں،شہداکے اہلخانہ کو سرکاری مکان کے مالکانہ حقوق دیں گے،میڈیا سے بات چیت

ہفتہ جنوری 14:13

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔2جنوری۔ 2010ء) وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ فوج اور سول حکومت میں کوئی تصادم نہیں،17ویں کے خاتمے کے لئے 100فیصد نہیں بلکہ 200فیصد سنجیدہ ہیں،،پولیس اہلکاروں کے میٹرک پاس بچوں کو نوکریاں دیں گے ،،پولیس اور ایف سی کے شہدا کے لواحقین کے لئے امداد 5لاکھ سے بڑھا کر 20لاکھ روپے کردی گئی ہے،قوم دہشتگردی کے خلاف ہے میڈیا نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے ،،،فوج،،عدلیہ اور پارلیمنٹ اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کر رہے ہیں،عوام کی طاقت حاصل ہے ہمیں کوئی پریشانی نہیں،شہداکے اہلخانہ کو سرکاری مکان کے مالکانہ حقوق دیں گے،آئینی اصلاحاتی کمیٹی میں شامل سیاسی قیادت پر مکمل یقین ہے ۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں جولائی 2007ء میں آبپارہ بم دھماکوں کے متاثرہ خاندان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دہشتگردی کی جنگ میں شہید ہونے والے پولیس اور ایف سی اہلکاروں کے لواحقین کو مالی امداد کی مد میں دی جانے والی 5لاکھ کی رقم بہت کم ہے اسے بڑھا کر 20لاکھ کر دیاگیاہے اور شہدا کے میٹرک پاس بچوں کو فوری نوکریاں دی ہیں اور پہلے جن کو کانسٹیبل بنایا تھا ا ان کو اے ایس آئی بنا دیا گیا ہے اور ان کی بچیوں کو نوکریاں دینے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں شہدا کے اہلخانہ کو سرکاری مکان کے مالکانہ حقوق دیں گے تاکہ ہمیشہ کے لئے ان کے پاس ایک شلٹر ہو ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں شہدا کو مالی امداد کے طریقہ کو سہل بنایا گیا ہے تاکہ شہدا کے لواحقین کو کسی مشکل کا سامنا نہ ہو اور انہیں بر وقت امداد مل سکے ۔۔پولیس اہلکاروں کے لئے اسلام آباد میں 2ہزار فلیٹس بنائے جائیں گے اور پولیس کی صلاحیت بڑھانے کیلئے تربیتی مراکز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے کیونکہ کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب اور حکومت کو غیر مستحکم کرنا دہشتگردوں کا ایجنڈا ہے ، وہ قوم میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے اب عوام میں شعور آ چکا ہے اور عوام سمجھ چکے ہیں کہ ان کے دشمن دہشتگرد ہی ہیں جوغیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جس کا مطلب صرف پاکستان کونقصان پہنچانا ہے اور ملک کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے اب پوری قوم دہشتگردی کے خلاف ہو چکی ہے اس بارے شعور اجاگر کرنے میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے جو قابل تحسین ہے میڈیا نے عوامی رائے کو متحرک کیا کہ دہشتگرد ملک و قوم کے دشمن ہیں وزیر اعظم نے کہا کہ دہشتگردی کو ختم کر نے کے ہم نے دنیا کو کہہ دیا ہے کہ ہم میں ہمت ہے کہ پاکستانی عوام اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کوختم کر سکتے ہیں لیکن صلاحیت کو مزید بڑھانا ہو گا اور پور ی دنیا اس پر اتفاق کر چکی ہے کہ پاکستان کی استعدادکارمیں اضافہ کیاجائے ۔

انہوں نے کہا کہ آرمی،عدلیہ اور پارلیمنٹ سمیت تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ میں کام کر رہے ہیں جب کو ئی ادارہ دائرہ سے آگے بڑھے گا تو پھر تصادم ہو سکتا ہے حالات ایسے نہیں ہیں کسی کواس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ آرمی اور سول حکومت میں کوئی تصادم نہیں ہے آرمی اپنا بہتر کام کر رہی ہے آرمی کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں وزیر اعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میرے ساتھ عوامی طاقت ہے جس دن عوامی طاقت ساتھ نہیں ہو گی اس دن مجھے پریشانی ہو گی چاروں صوبوں میں عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں ہم حکومت میں عوام کے ذریعے آئے ہیں اور عوام نے ہمیں پانچ سال کامینڈیٹ دیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت 17ویں ترمیم کے خاتمے کے لئے 100فیصد نہیں بلکہ 2سو فیصد سنجیدہ ہے آئینی اصلاحتی کمیٹی میں تمام جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں جن کا ہم احترام کرتے ہیں ۔انہوں نے سی ڈی اے اور پاک پی ڈبلیو ڈی کو ہدایت کی کہ اسلام آباد دکی گولڈن جوبلی منانے سے قبل شہر کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے ۔