اسٹیٹ بینک نے بینکوں کی جانب سے برآمدی آمدنی کی وصولی کے سرٹیفکیٹس پیش نہ کرنے پر عائد جرمانے میں اضافہ کردیا

ہفتہ جنوری 15:12

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔2جنوری۔ 2010ء) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایکسپورٹ فائنانس اسکیم کی نگرانی کو مزید موثر بنانے کے مقصد کے تحت بینکوں کی جانب سے برآمدی آمدنی کی وصولی کے سرٹیفکیٹس پیش نہ کرنے پر اسکیم کے حصہ اول کے تحت مقررہ جرمانہ 5ہزار روپے سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کردیا ہے۔ہفتہ کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کئے جانے والے ایک سرکلر (ایس ایم ای ایف ڈی سرکلر لیٹر نمبر 2) کے مطابق اس جرمانے کا 25 فیصد یعنی 5ہزار روپے کی رقم برآمدی آمدنی کی وصولی کے سرٹیفکیٹس تاخیر سے پیش کرنے پر بھی ناقابل واپسی ہوگی۔

واضح رہے کہ اس فیصلے سے قبل برآمدی مالکاری اسکیم کے حصہ اول کے تحت بینکوں کی جانب سے برآمدی آمدنی کی وصولی کے سرٹیفکیٹس مقررہ مدت کے اندر پیش کرنے میں ناکامی کی صورت میں بینکوں پر 5 ہزار روپے کا علامتی جرمانہ عائد کیا جاتا تھا۔

(جاری ہے)

برآمدی آمدنی کی وصولی کے سرٹیفکیٹس پیش کرنے کی مدت شپمنٹ کی تاریخ سے 210 روز (قالین کی برآمد کے لئے 270 روز) یا برآمدی آمدنی کی وصولی کی تاریخ سے 30 روز کے اندر ہے۔

اس کے بعد برآمدی آمدنی کی وصولی کے سرٹیفکیٹس پیش کرنے پر بینکوں سے پہلے ہی وصول شدہ جرمانہ متعلقہ بینکوں کو ریفنڈکردیا جاتا تھا۔ تاہم بینکوں میں ایکسپورٹ ری فائنانس سے متعلق معاملات کی جانچ کے دوران یہ امر مشاہدے میں آیا ہے کہ بینکوں/ برآمدکنندگان کی خاصی تعداد برآمدی آمدنی کی وصولی کے سرٹیفکیٹس ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن کے متعلقہ دفاتر کو مقررہ مدت کے اندر پیش کرنے کی ہدایت پرعمل نہیں کررہی ہے۔ لہٰذا اس اسکیم کی نگرانی کو مزید موثر بنانے کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے جرمانے کی رقم میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ عنوان :