کراچی اسٹاک ایکسچینج، گزشتہ ہفتے کے دوران اتار چڑھاؤ کے بعد مندی کا رجحان،سرمایہ کاروں کے 8ارب17کروڑروپے سے زائدڈوب گئے

ہفتہ جنوری 15:12

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔2جنوری۔ 2010ء) یوم عاشور کے موقع پر بم دھماکے اور بعدازاں بولٹن مارکیٹ اور اسکے اطراف کی بیشتر مارکیٹوں کو نظر آتش کرکے ہزاروں دکانوں کو تباہ کرنے کے واقعے نے دیگر شعبوں کی طرح حصص کی تجارت پر منفی اثرات مرتب کئے ، ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام ، داخلی حالات اور دہشت گردی کی وجہ سے خوف بڑھنے اور مجموعی طور پر بے یقینی کی کیفیت کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ ہفتے بھی کاروباری صورتحال غیرتسلی بخش رہی جسکے نتیجے میں مندی کے اثرات غالب رہے، ہفتہ وار کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس35.41 پوائنٹس کمی سے 9386.92پوائنٹس،کے ایس ای 30انڈیکس53.21پوائنٹس کمی سے9849.92پوائنٹس ، کے ایم آئی 30انڈیکس42.24پوائنٹس کمی سے 13754.06پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئرزانڈیکس20.12 پوائنٹس کمی سے 6665.55 پوائنٹس پر بند ہوا۔

(جاری ہے)

سرمایہ کاری مالیت میں8ارب17کروڑروپے سے زائدکی کمی جبکہ کاروباری حجم پیوستہ ہفتے کی نسبت29.85فیصد کم رہا ۔واضح رہے کہ یوام عاشور اور مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کی جانب سے سانحہ بولٹن مارکیٹ کے خلاف ہڑتال کے باعث صرف3سیشنز کا کاروبار ہوا۔ پیرکو یوم عاشوری کی تعطیل کے باعث کاروبار کا آغاز منگل کو ہوا ،یوم عاشورہ کے مرکزی ماتمی جلوس میں بم دھماکے کے بعد شرپسندوں کی جانب سے لائٹ ہاؤس سمیت بولٹن مارکیٹس جلانے ،شہر میں سوگ اورعدم ٹرانسپورٹ کی وجہ سے ممبران کی کم حاضری کے باعث کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا۔

ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس ایک موقع پر 9308 پوائنٹس کی سطح پر بھی ریکارڈ کیا گیا تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے ایک ارب بیس کروڑ ڈالر قرضے کی چوتھی قسط موصول ہونے کی اطلاعات اور حکومتی مالیاتی اداروں، مقامی بروکریج ہاؤسز ، انفرادی نوعیت کے سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمائے کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس ٹریڈنگ کے دوران ایک بار پھر 9400 کی نفسیاتی حد عبور کرگیا تاہم کاروباری حجم 9ماہ کی کم ترین سطح پر ریکارڈ کیا اور مارکیٹ کا اختتام مقررہ وقت سے 2گھنٹے قبل کردیاگیا ۔

عالمی مالیاتی فنڈکی جانب سے 1.2ارب ڈالر مالیت کی چوتھی قسط موصول ہونے ،خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور جنوری کے نئے رزلٹ سیزن میں انرجی ،انشورنس،بینکنگ اور فرٹیلائزرکمپنیوں کے متوقع مثبت نتائج کے باعث بدھ کو خلاف توقع تیزی کی ایک بڑی لہر رونماہوئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100انڈیکس 9500کی نفسیاتی حد عبور کرگیا۔جمعرات کوحکومتی مالیاتی اداروں، مقامی بروکریج ہاؤسز اور انفرادی نوعیت کے سرمایہ کاروں کی جانب سے سیمنٹ، بینکنگ اور انرجی سیکٹر میں خریداری کے باعث کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔

ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای 100 انڈیکس 9623.86 پوائنٹس کی سطح پر بھی دیکھا گیا تاہم بعد ازاں سانحہ بولٹن مارکیٹ کے باعث چھوٹے سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی، سال کے آخری روز بینکنگ سیکٹر میں پرافٹ ٹیکنگ اور فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس مذکورہ سطح پر برقرار نہ رہ سکا اور مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 121.03 پوائنٹس کمی سے 9386.92 پوائنٹس پر بند ہوا۔

ماہرین کے مطابق سیاسی عدم استحکام اور امن وآمان کی ناگفتہ بہ صورتحال کے باعث بیشتر بڑے سرمایہ کار دیکھو اورانتظار کرو کی پالیسی اختیار کیئے ہوئے ہیں۔ہفتے کے اختتام پر سرمایہ کاری مالیت میں8ارب17کروڑ52لاکھ7ہزار191روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ سرمایہ کاری کی کل مالیت27کھرب14ارب5کروڑ50 لاکھ 39ہزار414روپے سے گھٹ کر 27 کھرب 5 ارب 87 کروڑ 98 لاکھ 32 ہزار 223 روپے ہوگئی۔مجموعی طور پر ہفتے کے دوران کاروباری حجم 33کروڑ58 لاکھ 10ہزار 408 شیئرزرہاجو پیوستہ ہفتے کے مقابلے میں14کروڑ29لاکھ35ہزار866شیئرز کم ہے ۔ نمایاں لین دین نشاط چونیاں لمیٹڈ، بینک الفلاح،ڈی جی خان سیمنٹ کے شیئرز میں ہوا۔