میمو گیٹ سکینڈل کی تحقیقات کیلئے قائم کئے گئے عدالتی کمیشن کا کارروائی اوپن رکھنے کا فیصلہ،حسین حقانی طلب کئے جانے کے باوجود کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے، اگر سابق سفیر کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہو سکتے تو وکیل کا انتظام کیا جائے، عدالت کا حکم، میمو سے متعلق حسین حقانی اور منصور اعجاز کے درمیان ملاقات کا کوئی بھی سرکاری ریکارڈ دفتر خارجہ میں موجود نہیں، سیکرٹری خارجہ

پیر جنوری 18:13

میمو گیٹ سکینڈل کی تحقیقات کیلئے قائم کئے گئے عدالتی کمیشن نے کارروائی اوپن رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسین حقانی کی کمیشن کے سامنے حاضری یقینی بنائی جائے جبکہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی طلب کئے جانے کے باوجود کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے ۔ میموگیٹ کمیشن کا اجلاس اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس فائر عیسیٰ کی زیر صدارت ہوا، کمیشن کے دیگر ارکان میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اقبال حمیدالرحمن اور سندھ کے چیف جسٹس مشیر عالم شامل تھے ، اجلاس میں اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق، سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر، سیکرٹری کیبنٹ نرگس سیٹھی ، ڈپٹی اٹارنی جنرل اور وزارت خارجہ کے لیگل ایڈوئزر موجود تھے، حسین حقانی کے موجود نہ ہونے پر کمیشن کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے بتایاکہ انہیں سیکرٹری داخلہ کی وساطت سے آگاہ کردیا تھاقاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ اگر حسین حقانی کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہو سکتے تو وکیل کا انتظام کیا جائے۔

(جاری ہے)

اٹارنی جنرل نے کہاکہ سیکرٹری داخلہ نے انہیں نوٹس بھجوایا دیا ہوگا جس پر کمیشن نے ان کے سمن جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ سماعت پر عدالت میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔کمیشن نے اپنے آرڈر میں یہ لکھوایا ہے کہ حسین حقانی اور منصور اعجاز کے ذاتی استعمال میں آنے والے موبائل اور کمپیوٹرز اور ان کے ذریعے ہونے والے پیغامات کے تبادلے اور ای میل کا ریکارڈ بھی متعلقہ کمپنیوں سے طلب کیا جائے

متعلقہ عنوان :