ایرانی بحریہ کی آبنائے ہْرمز پہلی مرتبہ سائبر جنگی مشقیں، ہْرمز میں دوسرے ہتھیاروں کے علاوہ،فضائی دفاعی نظام رعد کا تجربہ کیا گیا ،یہ میزائل پچاس کلومیٹر فاصلے تک مار کرسکتے ہیں ،پچھتر ہزار فٹ کی بلندی پر موجود اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، بحریہ کے ترجمان ایڈمرل امیر راستگیری کی گفتگو

منگل جنوری 13:46

تہران (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 1جنوری2013ء ) ایرانی بحریہ نے تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گذرگاہ آبنائے ہْرمز کے نزدیک رعد میزائل سمیت مختلف ہتھیاروں کے تجربات کیے ہیں اورسد جارحیت کے لیے پہلی مرتبہ سائبر جنگی مشقیں بھی کی ہیں۔ بحریہ کے ترجمان ایڈمرل امیر راستگیری نے بتایا ہے کہ آبنائے ہْرمز میں دوسرے ہتھیاروں کے علاوہ ملک میں تیارکردہ فضائی دفاعی نظام رعد کا تجربہ کیا گیا ہے۔

یہ میزائل پچاس کلومیٹر فاصلے تک مار کرسکتے ہیں اور پچھتر ہزار فٹ کی بلندی پر موجود اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ترجمان نے مزید بتایا کہ آبدوزوں کے علاوہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے راکٹوں کے بھی تجربات کیے گئے ہیں۔ایرانی بحریہ کی مشقوں کا آغاز گذشتہ جمعہ کو ہوا تھا اور یہ آیندہ بدھ کو ختم ہوں گی۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحری افواج نے پہلی مرتبہ سائبر مشقیں بھی کی ہیں۔

رئیرایڈمرل امیر راست گیری نے بتایا کہ بحریہ نے فوجی مشقوں کے دوران دفاعی افواج کے کمپیوٹر نیٹ ورک پر سائبر حملہ کیا تھا۔اس کا مقصد اس نیٹ ورک میں دراندازی کرکے اس کی معلومات ہیک کرنا یا اس میں وائرس پھیلانا تھا۔ان کے بہ قول سائبر حملے کا کامیابی سراغ لگالیا گیا اور اس کی بروقت روک تھام کر لی گئی۔واضح رہے کہ گذشتہ تین سال کے دوران ایران کے صنعتی اداروں،مواصلاتی نیٹ ورکس ، جوہری تنصیبات اوربنک کاری نظام پر متعدد سائبر حملے کیے گئے ہیں۔

ان حملوں میں ایرانی اداروں کا ڈیٹا تباہ کرنے کے علاوہ ان کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کو نقصان پہنچایا گیا۔۔ایران نے اسرائیل اور امریکا پر ان حملوں کا الزام عاید کیا تھا۔اب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے سائبر حملوں کے مقابلے کے لیے سول اور فوجی یونٹ تشکیل دے دیے ہیں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments