اتصلات کی طرف سے پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے باقی 80 کروڑ ڈالر ادا نہ کرنے کے معاملہ پر غور کیلئے جلد نجکاری کمیٹی کا اجلاس بلایا جارہا ہے ‘ اجلاس میں وزیر نجکاری‘ وزیر خزانہ‘ سیکرٹری آئی ٹی ‘ پی ٹی سی ایل کے صدر‘ اتصیلات ٹیلی کام کے پاکستان میں نمائندے کو بلایا جائیگا‘ متحدہ عرب امارات کے سفیر کو بھی دعوت دی جائے گی، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے چیئرمین ملک بلال رحمن کی پارلیمنٹ ہاؤس میں بات چیت

منگل جنوری 14:09

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 1جنوری2013ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے چیئرمین ملک بلال رحمن نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی کمپنی اتصیلات کی طرف سے پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے باقی 80 کروڑ ڈالر ادا نہ کرنے کے معاملہ پر غور کیلئے جلد ہی کمیٹی کا اجلاس بلایا جارہا ہے اجلاس میں وزیر نجکاری‘ وزیر خزانہ‘ سیکرٹری آئی ٹی کے ساتھ ساتھ پی ٹی سی ایل کے صدر‘ اتصیلات ٹیلی کام کے پاکستان میں نمائندے کو بلانے کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے سفیر کو بھی دعوت دی جائے گی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں ”اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 1جنوری2013ء“ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں نجکاری کے نام پر قومی اداروں پر ڈاکہ ڈالا گیا‘ کھربوں کے اثاثے کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کئے گئے جبکہ اس کے باوجود ادائیگیاں نہ ہونا قابل شرم بات ہے۔

(جاری ہے)

پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے معاہدے پر اس وقت کی حکومت نے غیر قانونی طور پر دو مرتبہ نظر ثانی کی حالانکہ اتصلات کے بھاگنے پر معاہدہ منسوخ ہوجانا چاہئے تھا لیکن پرویز مشرف حکومت نے نجکاری معاہدے پر دو مرتبہ نظر ثانی کرکے پی ٹی سی ایل ملازمین کو دیئے جانے والے وی ایس ایس کی رقم اور کمپنی کے ذمہ داجب الادا دیگر رقوم بھی اپنے کھاتے میں ڈال دیں مگر اس کے باوجود اتصالات ٹیلی کام حکومت کو 80 کروڑ ڈالر کی بقیہ رقم ادا کرنے سے انکاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ لگتا ہے نجکاری کمیشن اور وزارت خزانہ اتصلات والوں سے ملے ہوئے ہیں‘ 80 کروڑ ڈالر کی رقم گزشتہ چھ سال سے ادا نہیں کی جارہی حالانکہ یہ رقم کسی بنک میں رکھی جاتی تو چھ سال میں دوگنا ہوجاتی۔