سال 2012ء میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 9 فیصد سے زائد کا اضافہ

منگل جنوری 14:09

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 1جنوری2013ء) سال دو ہزار بار ہ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 9 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رواں سال کے آغاز پر ایک ڈالر انناسی روپے پچاسی پیسے میں دستیاب تھا اور اس وقت پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر کا حجم سترہ ارب ڈالر سے زائد تھے۔سال دوہزار بارہ سے آئی ایم ایف کے قرض کی ادائیگی کا بھی آغاز ہوا جس کے باعث زرمبادلہ ذخائر کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر بھی دباو کا شکار رہی۔

جنوری کے آغاز پر روپے کی قیمت انناسی روپے سے زائد تھی جو مئی کے آخری عشرے میں نوے روپے ہو گئی۔جولائی کے اختتام پر ڈالر کی قدر مزید پانچ روپے اضافے کے ساتھ پچانوئے روپے ہوگئی جس میں ستمبر کے آغاز میں دو روپے کمی ہو ئی اور قیمت تیرانوے روپے ہو گئی۔

روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ یہاں نہیں رکا اور نومبر کے آغاز پر چھیانو نے اور دسمبر کے آغاز پر ڈالر ستانوے روپے زائد کی سطح پر ٹریڈ ہوا۔

معاشی ماہرین کے مطابق سال دو ہزار بارہ کے باقی ماندہ دنوں میں آئی ایم ایف کوئی ادائیگی نہیں اور سال کے اختتام کی وجہ سے کاروباری سرمیاں محدود رہتی ہیں جس کے باعث ڈالر کی قیمت سو روپے ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ملکی معیشت میں سست روی کے باعث گزشتہ پانچ سال میں ڈالر اٹھاون فی صد مہنگا ہوا ہے ۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments