امریکی سینیٹ نے ٹیکس معاہدے کی منظوری دے دی، ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے درمیان معاہدہ طئے پایا، جو بائیڈن کے ری پبلکنز اراکین کانگریس کے ساتھ مذاکرات میں ڈیل کے معاملات کو طے کیا گیا،کانگریس کی عمارت میں جو بائیڈن اور سینیٹ میں اکثریتی ریپبلکن لیڈر مِچ میک کونل کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رہا، ڈیل کے تحت منظور ہونے والے مالیاتی بل کا نفاذ ہوگیا،حکومت اور ریپبلکنز کے درمیان ہونے والی ڈیل کے تحت امریکہ میں امراء کو زیادہ ٹیکس ادا کرنا ہو گا ،حکومتی اخراجات میں 109 بلین ڈالر کی کمی تو کی جائے گی ، ڈیل کے تحت اخراجات میں کٹوتی کے معاملے میں شفافیت اور وسعت لانے کے لیے حتمی کٹوتی کے معاملے کو دو ماہ کے لیے موٴخر کر دیا ہے،وائٹ ہاوٴس

منگل جنوری 14:57

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 1جنوری2013ء ) امریکی سینیٹ نے ٹیکس معاہدے کی منظوری دے دی ہے ۔منگل کو امریکی سینیٹ نے اکتیس دسمبر کی ڈیڈ لائن گزرنے کے دو گھنٹے بعد ٹیکسوں میں اضافے اور اخراجات میں کمی روکنے کے لیے قانون کی منظوری دی۔ اس سے قبل ری پبلکن پارٹی کی جانب سے معاہدے کی حمایت کیے جانے کے بعد نائب صدر جوزف بائیڈن نے سینیٹ میں ڈیموکریٹ سینیٹرز کو اس بارے میں بریفنگ دی تھی۔

امریکہ میں مالیاتی معاملات پر وائٹ ہاوٴس اور ریپبلکنز کے درمیان پیر کی شب ڈیل طے پا گئی ۔پیر کو عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے ری پبلکنز اراکین کانگریس کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ڈیل کے معاملات کو طے کیا گیا۔ وائٹ ہاوٴس کے مطابق کانگریس کی عمارت میں جو بائیڈن اور سینیٹ میں اکثریتی ریپبلکن لیڈر مِچ میک کونل کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رہا۔

(جاری ہے)

اس ڈیل کے تحت منظور ہونے والے مالیاتی بل کا نفاذ امریکا پر ہوگیا۔حکومت اور ریپبلکنز کے درمیان ہونے والی ڈیل کے تحت امریکہ میں امراء کو زیادہ ٹیکس ادا کرنا ہو گا یعنی وہ امریکی جن کی سالانہ آمدن ساڑھے چار لاکھ سے زائد ہو گی اور بقیہ کو ٹیکس کی اضافی شرح سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔ اسی طرح حکومتی اخراجات میں بھی 109 بلین ڈالر کی کمی تو کی جائے گی لیکن ڈیل کے تحت اخراجات میں کٹوتی کے معاملے میں شفافیت اور وسعت لانے کے لیے حتمی کٹوتی کے معاملے کو دو ماہ کے لیے موٴخر کر دیا ہے۔

ڈیل کے تحت بظاہر ٹیکسوں کی شرح وہی ہوگئی ہے جو سابق صدر بل کلنٹن کے دور میں تھی۔ ساڑھے چار لاکھ امریکی ڈالر سے زائد کمانے والے 39.6 فیصد کے تحت ٹیکس ادا کریں گے۔ اوباما کی خواہش تھی کہ ڈھائی لاکھ ڈالر کمانے والوں پر 39.6 فیصد کے ٹیکس کا نفاذ کیا جائے۔ نئی ڈیل کے بعد اس کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ سوشل سکیورٹی، ریٹائرمنٹ سیونگ اور ہیلتھ کیئر پر عائد عبوری دو فیصد ٹیکس کا خاتمہ ہو جائے گا۔

امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ امریکہ نے اپنے حکومتی قرضوں کی انتہائی حد کو چھو لیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پینشن اور ریٹائرمنٹ سیونگ حاصل کرنے والے افراد کی جمع شدہ رقوم کو ایڈجسٹ کر کے حکومتی امور کو جاری رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ امریکہ کے حکومتی قرضوں کی انتہائی حد 16.394 ٹریلین ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق وہ غیر معمولی اقدامات کرتے ہوئے موجودہ ایڈجٹسمنٹ سے اگلے دو ماہ گزارے جا سکتی ہے۔ اس مناسبت سے وزارت خزانہ کی جانب سے ایک خط کانگریس کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ اس حد سے دستوری پابندی کے خاتمے کے حوالے سے کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے درمیان نئی کشمکش کو محسوس کیا جانے لگا ہے۔