بیورو کریسی اس ملک کو اپنا نہیں سمجھتی ، ادارے کی ترقی کیلئے جو کام کرنا چاہتے ہیں اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں‘ بیورو کریسی کی رکاوٹوں کی وجہ سے پاکستان پوسٹ 2ارب روپے خسارے میں چلا گیا ہے ، وفاقی وزیر پوسٹل سروسز کا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پوسٹل سروسز کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار، کمیٹی کی پاکستان پوسٹ میں ملازمتوں پر عائد پابندی ختم کرنے کی سفارش ، پاکستان پوسٹل سروس مینجمنٹ (ترمیمی) بل 2008 ء کی منظوری

منگل جنوری 16:56

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 1جنوری2013ء) وفاقی وزیر پوسٹل سروسز سردار محمد عمر گورگیج نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پوسٹل سروسز کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیورو کریسی اس ملک کو اپنا نہیں سمجھتی ، ادارے کی ترقی کیلئے جو کام کرنا چاہتے ہیں اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں۔ بیورو کریسی کی رکاوٹوں کی وجہ سے پاکستان پوسٹ 2ارب روپے خسارے میں چلا گیا ہے ، کمیٹی نے پاکستان پوسٹ میں ملازمتوں پر عائد پابندی ختم کرنے کی سفارش کردی ، کمیٹی نے پاکستان پوسٹل سروس مینجمنٹ (ترمیمی) بل 2008 ء کی منظوری دیدی ، کمیٹی کا اجلاس منگل کوچیئرمین پیر محمد اسلم بودلہ کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ، اجلاس میں پوسٹل لائف انشورنس کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان پوسٹ کے حکام نے بتایا کہ پوسٹل لائف انشورنس 128 سالہ پرانا پروگرام ہے جو کامیابی سے چل رہا ہے ، 3 لاکھ 85 ہزار سے زائد پالیسی ہولڈر ہیں، 27 ارب روپے کی بچت حکومت کو دے رہے ہیں ، تشہیری مہم میں کمزوری کے باعث عوام بہتر طور پر اس سہولت سے آگاہ نہیں ہے ، ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ متین رضوی نے کمیٹی کو بتایا کہ 9ہزار ڈاکخانے دیہاتوں میں ہیں ، 3ہزار شہروں میں ہیں جن میں سے ایک ہزار ڈاکخانوں کی عمارتیں کرایہ پر حاصل کی گئیں، پاکستان میں شناختی کارڈ کا اجراء پاکستان پوسٹ نے کیا تھا۔

(جاری ہے)

بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 110 ارب روپے گھر گھر تقسیم کئے گئے ہیں ، وفاقی وزیر پوسٹل سروسز سردار عمر گورگیج نے کمیٹی کو بتایا یہ محکمہ ایک گھر کی طرح ہے جب چارج سنبھالا تو ادارہ نجکاری کی جانب جا رہا تھا اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی، خالی زمینوں پر پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت 25 سالہ لیز کا منصوبہ بنایا جسے بیورو کریسی نے ناکام بنادیا ، غریب ملازمین کیلئے ہاؤسنگ سکیم شروع کرنے کی کوشش کی جسے بیورو کریسی نے کامیاب نہیں ہونے دیا ، ادارے کی بہتری کیلئے جو اقدام اٹھائے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ، پوسٹل سروسز کے افسران کے ذہن بند ہیں جب تک ان کا دوسرے اداروں میں تبادلہ نہیں کیا جاتا ان میں بہتری آنے کی امید نہیں ہے ،میں جانے والا ہوں اچھا کام کرکے جانا چاہتا ہوں ، افسران کمیٹی کے سامنے جھوٹ بول رہے ہیں ، ادارہ 2ارب روپے خسارے میں جا رہا ہے ، افسران اس ملک کو اپنا نہیں سمجھتے ، کمیٹی رکن بشریٰ رحمان نے کہا کہ بے ضمیروں کو آگے لایا گیا جس کی وجہ سے ملک کا نقصان ہوا ، کمیٹی اراکین کے استفسار پر وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان پوسٹ میں اسامیاں خالی ہیں مگر وزیراعظم نے بھرتیوں پر پابندی لگا رکھی ہے ، پابندی ختم ہوتی ہے تو کمیٹی اراکین کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کرتے ہوئے 10 ، 10 نوکریاں دی جائیں گی ، کمیٹی نے وزیراعظم سے پاکستان پوسٹ میں بھرتیوں پر پابندی ختم کرنے کی سفارش کی ہے ، کمیٹی نے متفقہ طور پر پاکستان پوسٹل سروس مینجمنٹ (ترمیمی) بل 2008ء کی منظوری دیدی۔