مرکز سے کئی عہدوں کی پیشکش پرمیں نے معذرت کرلی ہے ،میری خواہش ہے الطاف حسین پاکستا ن آجائیں، 14جنوری کو لانگ مارچ سے کچھ نہیں ہوگا، سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ کی بلوچستان ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو

منگل جنوری 16:56

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 1جنوری2013ء) پنجاب کے سابق گورنر سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ گورنر کے عہدے سے استعفیٰ کے بعدمرکز نے مجھے کئی عہدوں کی پیشکش کی تاہم میں نے یہ کہہ کر معذرت کی کہ میں وکالت کرنا چاہتا ہوں، پیپلز پارٹی ایک خاندان کی طرح ہے جس کے سربراہ آصف زرداری ہیں انہوں نے جو فیصلہ میرے بارے میں کیا میں نے اس کو لبیک کہا،ڈاکٹر طاہر القادری کو کامیاب جلسے پر مبارکباد دیتا ہوں، میری خواہش ہے کہ الطاف حسین بھی پاکستا ن آجائیں ، 14جنوری کو لانگ مارچ سے کچھ نہیں ہوگا۔

وہ منگل کو بلوچستان ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ 14جنوری کو کچھ نہیں ہوگا کیونکہ انتخابات قریب تر قریب ہے اس لیے کوئی بھی اس جمہوری عمل کو نہیں سمیٹے گا،جلد غیر جانبدار نگران سیٹ قائم کردیا جائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک خاندان کی طرح ہے جس کے سربراہ آصف زرداری ہیں انہوں نے جو فیصلہ میرے بارے میں کیا میں نے اس کو لبیک کہا اور ان کو اپنا استعفیٰ پیش کیا اس کے بعد مرکز نے مجھے کئی عہدوں کی پیشکش کی اور میں نے انہیں کہا کہ میں وکالت کرنا چاہتا ہوں اور پنجاب کی گورنر شپ سے ہٹنے کے بعد اب میں پہلی بار بلوچستان میں ڈپٹی اسپیکر کے کیس کی پیروی کررہا ہوں بلوچستان میرا اپنا گھر ہے میں بلوچ ہوں اور میری اس صوبے سے بہت بڑی یادیں وابستہ ہے۔