امریکی قرض کی حد میں اضافے پر وائٹ ہاؤس میں ہونے والے مذاکرات ملتوی کر دئیے گئے

سینیٹ کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات جمعرات کی حتمی مہلت سے قبل آخری امید ہیں ٗماہرین قرض کی حد بڑھانے اور حکومت کھولنے کے معاہدے تک پہنچنے کیلئے زبردست پیش رفت ہوئی ہے ٗ سینیٹر ریڈ

منگل اکتوبر 14:02

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 15 اکتوبر2013) امریکی قرض کی حد میں اضافے پر وائٹ ہاؤس میں ہونے والے مذاکرات ملتوی کر دئیے گئے ہیں تاکہ قانون سازوں کو کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے زیادہ وقت مل سکے جمعرات تک امریکہ کو لازمی طور پر قرض کی حد میں اضافہ کرنا ہو گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹ اور رپبلکن پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز شٹ ڈاؤن کے معاملے پر اختلافات کا شکار ہوگئے تاہم کانگریس کے رہنما نے کہاکہ اس تعطل سے نکلنے کی امید پیدا ہو گئی وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ پیر کی سہ پہر ہونے والے مذاکرات ملتوی کر دئیے گئے ہیں تاکہ سینیٹ کے رہنماؤں کو حکومت دوبارہ کھولنے اور قرض کی حد میں اضافہ کرنے کا کوئی حل نکالنے کیلئے زیادہ وقت مل سکے مذاکرات کی اگلی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

(جاری ہے)

امریکی میڈیا کے مطابق کانگریس کے رہنما ایک ایسے معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت حکومت کو 15 جنوری تک رقم فراہم کی جا سکے، اور قرض کی حد کو فروری کے وسط تک بڑھا دیا جائے۔صدر اوباما نے تنبیہ کی کہ رواں ہفتے ہم نے خاطر خواہ پیش رفت نہ کی اور اگر رپبلکن پارٹی نے ملک کی بہتری کے خاطر اپنے جماعتی معاملات کو بالائے طاق نہ رکھا تو اس بات کا بہت امکان ہے کہ ہم نادہندہ ہو جائیں۔

انھوں نے اضافہ کیا کہ نادہندگی سے ہماری معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔وائٹ ہاؤس میں صدر اوباما اور نائب صدر جو بائڈن کے علاوہ سینیٹ میں اکثریتی رہنما ہیری ریڈ، رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے اقلیتی رہنما مچ مکانل، رپبلکن پارٹی کے ایوانِ نمائندگان میں سپیکر جان بینر اور ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایوانِ نمائندگان میں اقلیتی رہنما نینسی پیلوسی حصہ لینے والے تھے تاہم میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر ریڈ نے کہا کہ سینیٹر مکانل اور ان کے درمیان قرض کی حد بڑھانے اور حکومت کھولنے کے معاہدے تک پہنچنے کیلئے زبردست پیش رفت ہوئی ہے تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم ابھی وہاں نہیں پہنچے ادھر امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس کے علاوہ ایک اور گروپ کے درمیان بھی کئی گھنٹوں تک مذاکرات ہوئے جس میں رپبلکن سینیٹر اور دونوں جماعتوں کے ارکان شامل تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات جمعرات کی حتمی مہلت سے قبل آخری امید ہیں۔ اس سے قبل گذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس اور رپبلکن پارٹی کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان کے درمیان مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے تھے۔