لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 60کارکنوں کی نظربندی کیخلاف دائر درخواست پر فریقین کے وکلاء کو حتمی بحث کیلئے طلب کر لیا ،ملتان بنچ اس قسم کے کیس میں نظربندیوں کو غیر آئینی قراردیتے ہوئے کئی کارکن رہا کرنے کا حکم دے چکا ہے‘ عدالت کے ریمارکس

جمعرات ستمبر 18:58

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11ستمبر۔2014ء) لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے 60کارکنوں کی نظربندی کے خلاف دائر درخواست پر فریقین کے وکلاء کو حتمی بحث کے لئے طلب کرتے ہوئے سماعت 15ستمبر تک ملتوی کر دی ۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جیمزجوزف نے کیس کی سماعت کی۔ تحریک انصاف کے وکیل اشتیاق چوہدری نے موقف اپنایا کہ حکومت نے تحریک انصاف کے کارکنوں کوپرامن انقلاب مارچ سے روکنے کیلئے 13مارچ کو مقدمات درج کئے جبکہ ٹرائل کورٹ نے مذکورہ کارکنوں کی ضمانتیں منظور کرلیں لیکن لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے کارکنوں کو ایک ماہ کے لئے نظربند کردیا ۔

نظربندیوں کا اطلاق غیر قانونی او رغیر آئینی ہے کیونکہ کسی بھی شہری کو سفر کرنے اور پر امن احتجاج کرنے سے روکا نہیں جاسکتا ۔

(جاری ہے)

فاضل عدالت غیر قانونی نظر بندی کو ختم کرنے کے احکامات صادر کرے ۔سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے موقف اختیارکیاکہ نظربند کئے گئے افرادکی جانب سے نقص امن کا خدشہ تھااس لئے حکومت نے یہ اقدام اٹھایا ۔ فاضل عدالت نے سماعت کے دوران قرار دیا کہ ملتان بنچ نے اس قسم کے کیس میں نظربندیوں کو غیر آئینی قراردیتے ہوئے کئی کارکن رہا کردیئے ہیں۔ دوران سماعت سرکاری وکیل نے کیس پر مزید بحث و تیاری کے لئے مہلت طلب کی جس پر فاضل عدالت نے فریقین کے وکلاء کو حتمی بحث کے لئے طلب کرتے ہوئے مزیدسماعت 15ستمبرتک ملتوی کردی۔