سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں،دو ارب جاری ‘چیئرمین کیبنٹ کمیٹی برائے فلڈ ریلیف،بحالی اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے کمیٹیاں تشکیل کردہ کمیٹیاں دو روز میں کام شروع کریں گی ،پاک افواج کی مدد سے ایک لاکھ 40ہزار متاثرین کو ریسکیو کیا گیا،24ہزار سے زائد متاثرین کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، ادویات کے10 ٹرک کیمپوں میں بھجوائے گئے ہیں،کرنل (ر) شجاع خانزادہ کی بریفنگ

جمعرات ستمبر 19:22

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11ستمبر۔2014ء) حکومت پنجاب 1972ء کے بعد تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب سے متاثرہ افراد کو ریلیف کی فراہمی اور بحالی کے لیے پاک فواج کی معاونت سے تمام وسائل بروئے لارہی ہے ،حکومت پنجاب نے امدادی سرگرمیوں کے لیے 2-ارب روپے کے فنڈز ریلیز کردئیے ہیں،متاثرین کی بحالی اور ان کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جاچکی ہیں جو 2سے3روز میں سروے کاکام شروع کردیں گی،1لاکھ 40ہزار متاثرین کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیاگیاہے۔

یہ بات چیئرمین کیبنٹ کمیٹی برائے فلڈ ریلیف پنجاب کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے سول سیکرٹریٹ کمیٹی روم میں میڈیا کے نمائندوں کو سیلاب کی موجود ہ صورتحال اور حکومت پنجاب کی ریسکیو اورریلیف سرگرمیوں بارے بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین، صوبائی وزیر بہبود آبادی بیگم ذکیہ شاہنواز ، ترجمان حکومت پنجاب زعیم حسین قادری بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے کہا کہ پنجاب کے21اضلاع کو آفت زدہ قرار دیاجاچکا ہے اور سیالکوٹ سے شروع کیا جانے والے اس ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں 16ہیلی کاپٹرز اور کشتیاں متاثرہ افراد کے انخلا ء کے کاموں میں مدد کررہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چناب میں تریموں کے مقام پر ساڑے 5لاکھ کیوسک پانی گزرہاہے جبکہ 1لاکھ 20ہزار کیوسک پانی کے اخراج کے لیے بند توڑا گیاہے تاہم 5سے 6لاکھ کیوسک پانی کا ریلا پیچھے سے آرہاہے۔

اٹھارہ ہزاری کے مقام پر تمام آبادی کا انخلا مکمل کرلیا گیاہے۔ ملتان کے مقام پر محمد والا بیراج سے ایک لاکھ50ہزار کیوسک پانی گزرنے کی گنجائش ہے جہاں اس وقت ساڑھے تین لاکھ کیوسک گزر رہاہے جبکہ شیر شاہ بیراج سے 2لاکھ کیوسک سے زائد پانی گزر رہاہے۔ حکومت کا فوکس اس وقت جھنگ اور ملتان پر ہے۔ وجھانہ گاؤں پر بڑا بریچ کیا گیا ہے۔کرنل (ر) شجاع خا نزاہ نے بتایا کہ جن علاقوں میں ریسکیو کا کام مکمل ہوگیاہے وہاں سے ٹیموں کو ان علاقوں کی طرف شفٹ کردیا گیاہے جہاں اس وقت سیلاب ہے یا آئند سیلاب کا خطرہ ہے- انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب خود بھی 12گھنٹے تک ان سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کررہے ہیں جبکہ ان کی ہدایت 13واٹرپیوریفکیشن یونٹس سیلاب زدہ علاقوں میں بھجوادئیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بحالی کے کام کے لیے اسیسمنٹ کمیٹیاں 2سے 3روز میں کام شروع کردیں گی۔ صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے بتایا کہ اس وقت حکومت پنجاب نے 2بلین روپے کے فنڈز ریلیز کئے ہیں جبکہ 10ہزار کمبل ،5ہزار رضائیاں ،اڑھائی لاکھ فوڈ ہیمپرز ، ایک لاکھ منرل واٹر کی بوتلیں ، 5لاکھ پانی صاف کرنے والی گولیاں ، اس کے علاوہ ڈینگی اور وبائی امراض سے متاثرین کو محفوظ رکھنے کے لیے مچھروں سے بچاؤ کے کوائل بھی فراہم کئے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 24ہزار متاثرین کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں جبکہ میڈیکل کٹس پر مشتمل 10امدادی ٹرک کیمپوں میں پہنچ چکے ہیں جبکہ مزید 20ٹرک وہاں پہنچائے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب اور شدید بارشوں کی وجہ سے متاثر ہونے والی 31میں سے 21سڑکوں کو مرمت کے بعد بحال کردیا گیا ہے۔ جزوی طور پر متاثر ہونے والے گھروں کی تعداد5ہزار 966جبکہ مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کی تعداد 2ہزار 361ہے ۔

مجموعی طور پر 10لاکھ پانچ ہزار 862مربع ایکڑکا رقبہ متاثر ہوا جبکہ متاثر آبادی سے 18 لاکھ افرادمتاثر ہوئے جبکہ تقریباً 1لاکھ 40ہزار لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔ تقریباً 15لاکھ مویشوں کا انخلا اور ویکسیشن عمل میں لائی گئی ، مویشیوں کے لیے 7سو کے قریب ہیلتھ کیمپ جبکہ 6موبائل ٹیمیں جانوروں کے چارے کے لیے بجھوائی گئیں، بحالی کے لیے 5سو سے زائد امدادی کیمپ لگائے گئے۔انہوں نے کہا کہ برقت فلڈ وارننگ جاری کرنے کی وجہ سے جانی نقصان میں کمی ہوئی کیونکہ 7کروڑ ایس ایم ایس لوگوں کو جاری کئے گئے ۔

متعلقہ عنوان :