امریکن لڑکے پر تشدد، اسرائیلی پولیس اہلکار دھر لیا گیا،طارق ابو خضیر کو اپنے سولہ سالہ کزن کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہرے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیاتھا

جمعرات ستمبر 20:26

مقبوضہ یروشلم(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11ستمبر۔2014ء) اسرائیلی وزارت قانون نے دو ماہ قبل مشرقی یروشلم میں ہونے والے پرتشدد مظاہرے کے دوران امریکی شہریت کے حامل نو عمر فلسطینی لڑکے پر تشدد کے الزام میں اسرائیلی پولیس اہلکار پر مقدمہ قائم کیا ہے۔یاد رہے کہ اسرائیلی پولیس اہلکار کے فلسطینی نژاد امریکی لڑکے پر تشدد کے مناظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو گئے تھے، جنہیں بعد ازاں بڑے پیمانے پر مشتہر کیا گیا، جس کے بعد امریکا نے بھی خود اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

نامعلوم پولیس اہلکار نے تشدد ماہ جولائی میں ایک احتجاجی مظاہرے کے موقع پر پر حراست میں لئے جانے والے فلسطینی لڑکے پر کیا تھا۔ احتجاجی مظاہرہ مشرقی یروشلم میں ایک ایسے فلسطینی بچے کی شہادت کے خلاف کیا جا رہا تھا جو امریکی شہریت کے حامل فلسطینی بچے طارق ابو خضیر کا کزن تھا۔

پندرہ سالہ ابو خضیر امریکا کی ریاست فلویڈا کا رہائشی ہے۔

ابو خضیر نے ماہ جولائی میں اپنے نوجوان کزن کی شہادت پر ہونے والے مظاہرے میں حصہ لیا تو اسے اسرائیلی سکیورٹی اپلکاروں نے سخت تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔اسرائیلی وزارت قانون کا کہنا تھا کہ پولیس افسر کے بارے میں ثبوت مل گئے ہیں کہ اس نے غیر قانونی حرکت کی ہے۔ یہ ابھی معلوم نہیں ہو سکا کہ اسرائیلی پولیس اہلکار فلسطینی بچوں کے لیے نرم دل کیوں ہو گیا۔

اسرائیلی وزارت قانون نے تشدد کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لینے والے شخص کا نا?م بھی ظاہر کیا ہے نہ ہی یہ بتایا ہے کہ اس کے خلاف کن دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔بتایا گیا ہے کہ امریکی شہریت کا حامل فلسطینی نو عمر طارق ابو خضیر بڑی گرم جوشی کے ساتھ احتجاجی مظاہرے میں حصہ لے رہا تھا۔ اس دوران مظاہرین پولیس پر پتھراو کرنے کے علاوہ کریکر پھینک رہے تھے، جبکہ پولیس نے ان مظاہرین پر غیر معمولی تشدد کیا۔ طارق ابو خضیر نے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے الزام سے انکار کیا ہے۔ البتہ اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں نے اس کے ہاتھ باندھ کر اس پر سخت تشدد کیا۔ طارق ابو خضیر کے مطابق اس کے سولہ سالہ کزن کو زندہ جلا کر شہید کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments