مصرمیں بچوں پر تشدد، یتیم خانے کے نگران کو تین سال قید کی سزا،بچوں پر تشدد کی ویڈیو عدالت میں شہادت بن گئی ،اسامہ محمد عثمان کو گزشتہ ماہ گرفتارکیاگیاتھا

جمعرات ستمبر 20:41

قاہرہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11ستمبر۔2014ء) مصری عدالت نے ایک یتیم خانے کے نگران کو تین سال کے لیے جیل بھیج دیا ، تین سال قید کی سزا پانے والے نگران کو یہ سزا یتیم بچوں کی مار پٹائی کرنے پر دی گئی ہے۔ اس حوالے سے اہم شہادت ایک ویڈیو فوٹیج بنی ہے جس میں سزا پانے والا بچوں پر تشدد کر رہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یتیم خانے کے نگران اسامہ محمود عثمان کو پولیس نے ماہ اگست میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب بچوں پر چھڑیوں اور پاوں کی ٹھوکروں سے تشدد کرنے سے مشتمل ویڈیو سامنے آئی تھی۔

(جاری ہے)

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے اگر اسامہ محمود عثمان ایک ہزار مصری پاونڈ جرمانہ ادا کر دے تو اس کی تیسرے سال کی سزائے قید ختم ہو سکتی ہے۔اس معاملے میں حیران کن بات یہ ہے کہ یتیم خانے کے نگران کی بچوں کی پٹائی کی فلم اس کی اہلیہ نے بنائی تھی۔ دوسری جانب بعض بچوں نے کہا ہے کہ ان کو اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے ٹی وی دیکھنے کے لیے نگران سے اجازت نہیں لی تھی۔قاہرہ کے ایک سینئیر سکیورٹی آفیسر محمد فاروق کا کہنا ہے کہ اسامہ محمود عثمان نے تفتیش کے دوران بچوں کو مارنے کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ وہ انہیں بتانا چاہتا تھا بجلی کی تاروں سے کھیلنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

متعلقہ عنوان :