گجرات میں سیلاب نے جہاں تباہی مچائی وہیں 80 سالہ خام حسین کوخوشیاں بھی دے گیا

جمعرات ستمبر 21:08

گجرات میں سیلاب نے جہاں تباہی مچائی وہیں 80 سالہ خام حسین کوخوشیاں بھی ..

گجرات(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11ستمبر۔2014ء) پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے جہاں کئی لوگ بے سہارا ہوئے وہیں ایک گھر ایسا بھی ہے جہاں عمر کے آخری حصے میں 75 سالہ بی بی غلام فاطمہ کو سہارا مل گیا۔قصہ کچھ یوں ہے کہ گجرات کے 80 سالہ بزرگ بابا خادم حسین کا سیلاب کے باعث گھر پانی میں بہہ گیا اور وہ بے سہارا ہوگئے جنہیں سہارا دینے کے لئے سیالکوٹ کے نواحی گاؤں ٹانڈا میں رہائش پذیر ان کے رشتہ داروں نے ان کی شادی کرانے کا فیصلہ کرلیا۔

باباخادم خود بھی اپنی شادی کی خواہش دل میں دبائے بیٹھے تھے لیکن عمر کے اس حصے میں شادی کے لئے رشتہ داروں سے کہتے ہوئے گھبراتے تھے لیکن سیلاب نے ان کا یہ کام آسان کردیا۔باباخادم کے رشتہ داروں کے یہاں بے سہارا 75 سالہ غلام فاطمہ گزشتہ کئی سالوں سے رہ رہی تھیں اور رشتہ داروں نے ہی باباخادم کی تنہائی بھانپتے ہوئے ان کا نکاح غلام فاطمہ سے کرانے کی بات کی تو بابا جی سے انکار نہ کیا گیا اور چٹ منگی پٹ بیاہ کرڈالا۔

(جاری ہے)

باباخادم کی بارات گجرات سے سیالکوٹ پہنچی تو سیلاب سے متاثرہ افراد بھی اپنے غم بھلا کر باباحیدر کی خوشیوں میں شریک ہوگئے یہی نہیں جب بارات گجرات پہنچی تو ڈھول کی تھاپ پر اہل علاقہ نے ان کا استقبال کیا۔باباخادم حسین کا کہنا تھا کہ ان کا ارادہ تھا کہ وہ اپنی شادی انتہائی دھوم دھام سے کرتے لیکن سیلاب میں گھر بہہ جانے کی وجہ سے انہوں نے اپنی شادی سادگی سے کی۔

متعلقہ عنوان :