مذاکراتی کمیٹی چاہے جتنے مذاکرات کرلے ، وزیر اعظم کے استعفے تک نہیں جائینگے ،عمران خان ،حق کی آواز اٹھانے پر طاہرہ آصف اور ہنڈری مسیح کوقتل کروادیا گیا ،کون ملوث تھا ہفتے کو نام بتاؤنگا ،نیا پاکستان قائد اعظم کا پاکستان ہو گا ،سرکاری ملازمین حکومت کے غلط احکامات نہ مانیں ، نئے پاکستان میں میرٹ کا نظام رائج کریں گے ، سپریم کورٹ اسلام آباد سے کنٹینرز ہٹوائے ،دھرنے سے خطاب

جمعرات ستمبر 23:15

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11ستمبر۔2014ء) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی چاہے جتنے مذاکرات کرلے ، وزیر اعظم کے استعفے تک نہیں جائینگے ،حق کی آواز اٹھانے پر طاہرہ آصف اور ہنڈری مسیح کوقتل کروادیا گیا ،کون ملوث تھا ہفتے کو نام بتاؤنگا ، پاکستان قائد اعظم کا پاکستان ہو گا ،سرکاری ملازمین حکومت کے غلط احکامات نہ مانیں ، نئے پاکستان میں میرٹ کا نظام رائج کریں گے ، سپریم کورٹ اسلام آباد سے کنٹینرز ہٹوائے ۔

جمعرات کو دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ میری نواز شریف سے نہیں بلکہ اس کی ذہنیت سے لڑائی ہے۔ میری جنگ قانون توڑنے والوں کیخلاف ہیں۔ میری لڑائی ان ظالموں سے ہے جو قانون توڑتے ہیں ، عام پاکستانی سے ہر روز ظلم ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

عمران خان نے کہا کہ ہماری تحریک کا مقصد عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنا ہے۔ دنیا میں عزت پانے کیلئے اپنے حقوق لینا پڑیں گے ، حکمران ڈرتے ہیں کہ اگر عوام اپنے حقوق جان گئے تو ان کی دکانداری بند ہو جائے گی۔

عمران خان نے کہاکہ ہم نے حکومت سے صرف 4 حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا کیونکہ حکومت کو علم تھا کہ اگر 4 حلقے کْھل گئے تو ان کا سارا پول کھل جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماء بھی مانتے ہیں کی دھاندلی ہوئی۔ سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ بھی مان گئے ہیں کہ اگر چار حلقے کھل گئے تو سارا الیکشن ہی ختم ہو جائیگا۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت کو 8 اگست کو سیلاب کا پتا چل گیا تھا لیکن اس نے سیلاب کی روک تھام کیلئے کوئی تیاری نہیں کی۔ اگر ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہوتا تو سیلاب سے اتنا نقصان نہ ہوتا۔ عمران خان نے کیا کہ حق کی آواز اٹھانے پر طاہرہ آصف اور ہنڈری مسیح کو قتل کر وا دیا گیا۔ ہنڈری مسیح کو کوئلے کی کانوں جبکہ طاہرہ آصف کچی آبادیوں پر آواز اٹھا رہے تھے۔

طاہرہ آصف کے قتل میں لاہور کے دو ایم این اے اور ایک پولیس افسر ملوث تھا۔ ہفتے کو عوام کے سامنے ان کے نام بتاؤں گا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں طاقتور لوگ جب چاہیں آپ کے ساتھ ظلم کر سکتے ہیں، لاہور میں جن لوگوں کو گولیاں ماری گئیں ان کے خلاف ہی ایف آئی آر کٹوا دی گئی، یہاں مظاہرین پر گولیاں چلا دی گئیں اور لوگوں کو شہید کر دیا گیا، غریبوں کی ساری زندگی کچہری میں گزر جاتی ہے مگر انصاف نہیں ملتا تاہم نواز شریف آج بھی وزیر اعظم بنے بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہاں دھرنے پر انتیس دن ہو گئے ہیں، مذاکراتی ٹیمیں بتاتی ہیں کہ سب معاملات طے ہو گئے بس نواز شریف کے استعفے پر بات آگے نہیں بڑھ رہی تو میں مذاکراتی کمیٹیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ نواز شریف کے استعفے کے بغیر ہم یہاں سے واپس نہیں جانے والے، چاہیں یہاں کتنا ہی وقت کیوں نہ گزارنا پڑے۔میر ی نوا زشریف سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے بلکہ مجھے مسئلہ یہ ہے کہ ایک آمرانہ سوچ اس ملک میں حکومت کرر ہی ہے۔

انصاف کا اصول ہے کہ جس کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہوں وہ استعفیٰ دیتاہے مگر یہاں نواز شریف ایک مہینہ استعفیٰ دینے پر تیار نہیں ہیں عمران خان نے کہاکہ پہلی بار انگلینڈ میں گیا تو دیکھا کہ وہاں پاکستانیوں کے خلاف بہت ظلم ہوتا تھا، پھر آہستہ آہستہ وہاں پاکستانی اپنے حقوق کے لئے کھڑے ہونا شروع ہوئے، اور آج برطانیہ میں پاکستانی پارلیمنٹ کے رکن بن چکے ہیں، ان کو اپنے حقوق کی آ گاہی آ چکی ہے،۔

آج ہماری راہ میں رکاوٹیں اس لئے ہیں کہ ان چوروں کو ڈر ہے کہ کہیں ان پاکستانیوں کو ان کے حقوق کا پتا چل گیا تو ان کی دوکانداری نہ ختم ہو جائے۔انہوں نے کہا کہ دھاندلی کا جن اب نواز شریف کے استعفے کے بعد ہی واپس بوتل میں جائے گا، اور میں تب تک روزانہ یونہی انکشافات کرتا رہوں گا۔ این اے 118لاہور میں ایک لاکھ 17ہزار میں سے 68ہزار ووٹ کی تصدیق نہیں ہو سکی، لاہور میں این اے124 میں بشریٰ اعتزاز کے حلقے میں 264پولنگ بیگز چیک کئے گئے، جس میں سے صرف 106بیگ بند تھے، باقی بیگز کھلے تھے، 47بیگز میں ووٹ ہی نہیں تھے، اسی حلقے میں 37کاونٹر فائلز ہی نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ دھاندلی صرف پنجاب میں ہی نہیں ہر جگہ کی گئی اور ابھی بھی جاری ہے، زبیر خان نے کراچی میں چندہ جمع کر کے این اے256 میں 84000ووٹ کا آڈٹ کروایا جس میں سے صرف 6ہزار ووٹ درست ثابت ہوا، لیکن ٹربیونل نے اس کا کیس ہی اٹھا کر پھینک دیا، اس کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے امید وار نے آڈٹ کروایا تو ری الیکشن کروا دیا گیا۔ یہ کیسا انصاف ہے؟تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ رانا ثناء اللہ نے تو کہہ بھی دیا کہ اگر چار حلقے کھو ل دیئے جاتے تو سارا الیکشن برباد ہو جاتا، ان کی بات صحیح ہے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ انہوں نے کتنی زیادہ دھاندلی کی ہے، آج اسمبلیوں میں بھی مک مکا کیا جا رہا ہے، ایک کہتا ہے تم میری چوریاں نہ بتانا میں تمہاری چوری نہیں بتاتا، اور چوہدری نثار کہتے ہیں کہ ۔

سپریم کورٹ میں جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ تحریک انصاف احتجاج کر کے کوئی قانون نہیں توڑ رہی۔ان کا کہنا تھا کہ تین سال پہلے بنائے گئے فلڈ کمیشن کے رپورٹ پر عمل کیا جاتا تو آج یہ سیلاب نہ آتااور نہ ہی شریف برادران کو آج سیلاب متاثرین کے ساتھ بوٹ پہن کر تصویریں بنوانے کی ضرورت پڑتی، لیکن انہوں نے سارا پیسہ تو میٹرو بس پراجیکٹس پر ضائع کر دیا جو اس ملک کی عوام کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

عمران خان نے کہا کہ قائد اعظم نے جو پاکستان بنایا تھا اس میں معاشی، معاشرتی اور طبقاتی انصاف تھا، مگر آج اس ملک میں تعلیم پر ہی دو نظام قائم کر دیئے گئے ہیں، نیا پاکستان قائد اعظم کا پاکستان ہو گا، جس میں مساوات ہو گی۔ قائداعظم نے سرکاری ملازمین کو کہا کہ آپ عوام کے ملازم ہیں، حکومت کے غلط حکم نہ مانیں، ہم بھی وہی نظام لائیں گے۔ اس پاکستان میں میرٹ کا قتل ہوتا ہے، اس وجہ سے ہمارے ذہین لوگ باہر چلے جاتے ہیں، نئے پاکستان میں میرٹ کا نظام رائج کریں گے۔ میری سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ اسلام آباد میں لگائے گئے کنٹینرز ہٹوائیں