غیر معیاری بلڈ بنکس کے خلاف یکم جنوری سے کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے ‘ خواجہ سلمان رفیق ،

بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے پاس رجسٹریشن کے لئے درخواست نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی پارلیمانی سیکرٹری صحت خواجہ عمران نذیر بلڈ بنکوں کے خلاف کارروائی کو لیڈ کرینگے‘ مشیر صحت کی زیر صدارت اہم اجلاس

منگل دسمبر 18:18

لاہور ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 دسمبر 2014ء) مشیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ پنجاب بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے پاس رجسٹریشن کے لئے درخواست جمع نہ کرانے والے بلڈ بنکوں کے خلاف یکم جنوری 2015 ء سے کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے ،بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی جانب سے اخبارات میں متعدد بار اشتہارات دینے کے باوجود ابھی تک صرف400 بلڈ بنکوں نے رجسٹریشن کے لئے درخواست دی ہے جنہیں ایک معیاری بلڈ بنک کے لئے تیار کردہ چیک لسٹ اور ایس او پیز فراہم کئے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے ادارے کو مقرر کردہ ایس او پیز کے مطابق کر لیں، غیر معیاری بلڈ بنکوں کو کام کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی ۔

انہوں نے یہ بات منگل کے روز سول سیکرٹریٹ میں ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔

اجلاس میں سیکرٹری صحت پنجاب جواد رفیق ملک ، پارلیمانی سیکرٹری صحت خواجہ عمران نذیر ، ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان ، جرمنی کی این جی او جی ٹی زیڈ کے کنسلٹنٹ برائے بلڈ ٹرانسفیوژن مسٹر پال کوہرٹ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے سیکرٹری ڈاکٹر جعفر سلیم ، ای ڈی او ہیلتھ لاہور ڈاکٹر ذوالفقار ، پنجاب کوالٹی کنٹرول بورڈ کے سیکرٹری اظہر سلیمی اور محکمہ پولیس کے افسران نے شرکت کی ۔

اجلاس میں ڈاکٹر جعفر سلیم نے بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی اب تک کی کاکردگی اور اقدامات بارے بریفنگ دی ۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے اور ضلع کی سطح پر سیف بلڈ کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں اور میڈیکل کالجوں سے پروفیسر اور سینئر رینک کے 10 پیتھالوجسٹ کو انسپکٹر نامزد کیا جا چکا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اب تک 400 بلڈ بنکوں نے رجسٹریشن کے لئے درخواستیں جمع کرائی ہیں اور 50 کی انسپکشن کر لی گئی ہے ۔

ڈاکٹر جعفر سلیم نے کہا کہ اخبارات میں اس حوالے سے متعدد بار اشتہارات بھی شائع کروائے گئے ہیں تاکہ بلڈ بنکس کو رجسٹریشن کے بارے معلومات دی جا سکیں ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دیگر اضلاع کے بلڈ بنکس مالکان کو سفری مشکلات سے بچانے اور ان کی آسانی کے لئے رجسٹریشن کی سہولت ضلع کی سطح پر فراہم کی جائے گی تاہم رجسٹریشن کے لئے درخواست فارم بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے دفتر میں جمع کرانا ہو گا ۔

خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ صحت مند اور شفاف خون کی فراہمی مریضوں کا حق ہے جسے یقینی بنایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ غیر معیاری اور مقررہ سہولیات نہ رکھنے والے بلڈ بنکس کو کام کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن نہ کرانے والے بلڈ بنکوں کے خلاف کارروائی کو پارلیمانی سیکرٹری صحت خواجہ عمران نذیر لیڈ کریں گے جبکہ محکمہ صحت کے ڈرگ انسپکٹرز ، ضلعی حکومت کے افسران اور پولیس اس سلسلہ میں معاونت کریں گے ۔

Your Thoughts and Comments