فلسطین جرائم کی عالمی عدالت کی رکنیت کا خواہاں،

فلسطینی صدر محمود عباس نے ’روم سٹیچیوٹ‘ نا می معا ہدے پربھی دستخط کر دیے،جرائم کی عالمی عدالت کی رکنیت ملنے پر فلسطین اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات دائر کر سکے گا

جمعرات جنوری 13:01

رملہ (اُردو پوائنٹ اخبارتاز ترین ۔ 1جنوری 2015ء) فلسطین نے جرائم کی عالمی عدالت کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے کوششوں کا آغاز کر دیا ۔اس سلسلے میں فلسطینی صدر محمود عباس نے راملہ میں ’روم سٹیچیوٹ‘ نا می معا ہدے پربھی دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے قیام کے وقت عمل میں لایا گیا تھا۔جرائم کی عالمی عدالت کی رکنیت ملنے پر فلسطین اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات دائر کر سکے گا۔

فلسطین کی جانب سے جرائم کی عالمی عدالت کی رکنیت کے حصول کا اعلان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل سے تین برس میں فلسطینی علاقے خالی کرنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد مسترد کیے جانے کے فوری بعد سامنے آیا ہے۔فلسطینی صدر نے رملہ میں 20 مختلف معاہدوں پر دستخط کیے جن میں جرائم کی عالمی عدالت کو تسلیم کرنے کا معاہدہ بھی شامل تھا۔

اس اقدام کو فلسطین کے آئی سی سی کا حصہ بننے کے سلسلے میں پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔اس موقع پر محمود عباس کا کہنا تھا کہ ’ہم شکایت کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اپنے اور اپنی سرزمین کے خلاف جارحیت کا سامنا ہے۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’سلامتی کونسل نے ہمیں مایوس کیا ہے۔‘خیال رہے کہ محمود عباس نے رواں برس ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اسرائیل پر غزہ میں ’نسل کشی‘ کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس معاملے کو جرائم کی عالمی عدالت میں لے جائیں گے۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے فلسطین کے تازہ اقدام پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل ’جوابی کارروائی کرے گا اور اپنے فوجیوں کا دفاع کرے گا۔‘نتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ فلسطینی اتھارٹی ہے جس نے ایک دہشت گرد گروپ حماس سے مل کر حکومت بنائی ہے۔ حماس دولتِ اسلامیہ کی مانند جنگی جرائم کا ارتکاب کرتی ہے اور یہ معاملہ ہیگ میں جرائم کی عالمی عدالت کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔

اسرائیل کے قریبی حلیف امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے بھی اس سلسلے میں ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں فلسطینی اعلان کو حالات مزید بگاڑنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک میں بات چیت پی امن کے حصول کا حقیقی راستہ ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آج کا قدم مکمل طور پر نقصان دہ ثابت ہوگا اور یہ کسی طریقے سے فلسطینی عوام کے خودمختار اور آزاد ریاست کے قیام کی کوششوں کے لیے مددگار نہیں

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments