سال 2014ء کے دوران مہنگائی کا جن بے قابو رہا، پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں کمی کا بھی کوئی اثر نہ ہوا

جمعرات جنوری 13:44

سال 2014ء کے دوران مہنگائی کا جن بے قابو رہا، پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں ..

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتاز ترین ۔ 1جنوری 2015ء) سال 2014ء کے دوران مہنگائی کا جن بے قابو رہا، دالوں کی قیمت میں فی کلو 10 سے 36 روپے، مصالحہ جات کی قیمت میں 70 سے 80 روپے اضافہ، بکرے کا گوشت 80 سے 100 روپے کلو، بیف 40 روپے کلو مہنگا ہوا، تازہ دودھ سال بھر سرکاری نرخ سے 14 سے 16 روپے زائد پر فروخت ہوا، تندور کی روٹی کی قیمت 2 روپے اضافے سے 10 روپے ہوگئی، ڈبہ بند دودھ 25 روپے فی لٹر مہنگا ہوگیا۔

سال کے آخری دو ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا بھی کوئی اثر نہیں پڑا شہری انتظامیہ اور پرائس کنٹرول ادارے عوام کو مہنگائی کی عفریت سے نجات دلانے میں مکمل طور پر بے بس نظر آئے۔ایک سروے رپورٹ کے مطابق جنوری 2014ء سے دسمبر 2014ء کے دوران مسور کی دال کی قیمت میں 15 سے 20 روپے کلو اضافہ ہوا جس کی قیمت 100 سے 120 روپے تک بڑھ ئی ،مونگ کی دال 142 سے بڑھ کر 160روپے کلو تک پہنچ گئی، چنے کی دال کی قیمت جنوری میں 70 روپے کلو تھی جو سال میں معمولی اتار چڑھاؤ کے بعد دسمبر میں 74 روپے کلو فروخت کی گئی دال چنا درجہ اول 80 روپے کلو تک فروخت کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

دال ماش کی قیمت 110 روپے سے بڑھ کر 150 روپے کلو تک پہنچ گئی۔ باسمتی چاول بدستور 170 سے 180 روپے کی قیمتوں پر فروخت ہوتا رہا جبکہ باسمتی ٹوٹہ 70 سے 75 روپے اور اری چاول 55 سے 60 روپے کلو قیمت پر فروخت ہوا۔ سرخ مرچ پاؤر کی قیمت جنوری میں 230 روپے کلو تھی جو دسمبر تک بڑھ کر 350 روپے کلو ہوگئی، دھنیا پاؤڈر230 سے بڑھ کر 300 روپے کلو قیمت پر فروخت ہوا، ہلدی پاؤرڈر کی قیمت 200 روپے برقرار رہی سفید زیرہ 440 سے 450 روپے کلو قیمت پر فروخت ہوا۔

گھی تیل کی قیمتوں میں بھی کوئی کمی نہ ہوسکی ایک کلو گھی تیل کا پیکٹ برانڈز کے لحاظ سے 190 سے 200 روپے قیمت پر فروخت ہوا۔ بچھیا کا گوشت سرکاری نرخ سے زائد 440 روپے فی کلو قیمت پر فروخت ہوتا رہا اسی طرح بکرے کے گوشت کی قیمت 650 روپے سے بڑھ کر 750 روپے تک پہنچ گئی۔ سال بھر مرغی کے گوشت کی اوسط قیمت 255 سے 260 روپے رہی، پیاز 50 روپے تک کی بلند قیمت پر فروخت ہوئی آلو کے بحران کے سبب آلو نے بھی 70 سے 80 روپے کلو کا بلند ریکارڈ قائم کیا۔

ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت جنوری میں 46 روپے تھی جو دسمبر تک کم ہوکر 40 روپے کلو کی سطح پر آگئی تندور کی روٹی کی قیمت 2 روپے اضافے سے 10 روپے ہوگئی۔ تازہ دودھ 70 روپے کی سرکاری قیمت کے بجائے پورا سال 84 سے 86 روپے جبکہ دہی 100سے 110 روپے کلو قیمت پر فروخت ہوا۔ چینی کی قیمت جنوری میں 54 سے 55 روپے کلو تھی جو دسمبر تک کم ہوکر 50 سے 52 روپے کی سطح پر آگئی صابن کی ٹکیہ کی قیمت میں سال کے دوران 2 سے 4 روپے کا اضافہ ہوا، گڑ 80روپے کلو قیمت پر فروخت ہوا۔

خشک دودھ 910 گرام پیک کی قیمت 650 سے بڑھ کر 725 روپے ہوگئی، ٹیٹرا پیک فی لٹر دودھ 95 سے بڑھ کر 120 روپے فی لٹر ہوگیا۔ سال کے دورا ن بیکری آئٹمز اور پیک شدہ مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد مرتبہ اضافہ کیا گیا، ڈبل روٹی، بسکٹ، بن پاپے، مارجرین اور مکھن سمیت ناشتے کی تمام اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھیں ۔

متعلقہ عنوان :