اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق نگران وفاقی وزیر داخلہ ملک محمد حبیب کی اہلیہ کی بیرون ملک سے علاج کروانے کے اخراجات قومی خزانے سے ادا نہ کرنے پر پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیراعظم کو احکامات جاری

سابق وفاقی وزیر داخلہ کیس کا معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لایا جائے،اسلام آباد ہائی کورٹ عدالت نے دیگر فریقین سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی

پیر مارچ 16:58

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔30مارچ۔2015ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق نگران وفاقی وزیر داخلہ ملک محمد حبیب کی اہلیہ کی بیرون ملک سے علاج کروانے کے اخراجات قومی خزانے سے ادا نہ کرنے پر پیر کے روز پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیراعظم کو احکامات جاری کئے ہیں کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ کیس کا معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لایا جائے اور عدالت نے دیگر فریقین سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی ۔

پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نور الحق این قریشی کی عدالت میں سابق وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب کی جانب سے دائر کی گئی کیس کی سماعت ہوئی درخواست گزار کے وکیل احمد رضا قصوری عدالت عالیہ میں پیش ہوئے انہوں نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ملک حبیب جو کہ پولیس کے سینئر عہدہ پر سروس کرچکے ہیں 2006ء میں ان کی اہلیہ کو ایک شدید بیماری لاحق ہوئی جس پر پمز کے ایک میڈیکل بورڈ نے ان کے پاکستان میں علاج نہ ہونے پر بیرون ملک علاج کیلئے حکومت کو ہدایت جاری کی تھیں اور ملک محمد حبیب کی اہلیہ کا علاج لندن کے ایک ہسپتال سے ہوا جس پر پاکستانی اخراجات 15لاکھ 72 ہزار744روپے خرچ ہوئے لیکن بعد ازاں درخواست گزار نے بطور سابق سول سرونٹ یہ پیسے حکومت سے کلیم کئے لیکن وزارت صحت اور دیگر فریقین نے کلیم لینے سے انکار کرتے ہوئے یہ بتایا کہ بیرون ملک علاج کرانے پر حکومت کی جانب سے پابندی لگائی گئی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت نہ صرف دیگر سیاستدانوں ، بیورو کریٹس کا علاج ہوا بلکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فاضل جج صاحبان کا علاج بھی بیرون ملک سے کرایا گیا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے عدالت کوبتایا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت عالیہ نے احکامات جاری کئے تھے کہ فوری طور پر درخواست گزار کو پیسے ادا کئے جائیں تاہم تاحال عدالت عالیہ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ کیبنٹ ڈویژن اور وزارت صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار کی اہلیت کا کیس وزیراعظم سیکرٹریٹ میں بھیج دیا گیا تاہم تاحال کوئی اپ ڈیٹ نہیں مل رہی جس پر عدالت نے دلائل سننے کے بعد وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو احکامات جاری کئے کہ درخواست گزار کے کیس کا معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لایا جائے اور اس پر عملدرآمد کروانے کے احکامات جاری کئے جائیں عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی ۔

درخواست میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ، سیکرٹری کیبنٹ اور سیکرٹری وزارت ہیلتھ کو فریق بنایا گیا ہے ۔

متعلقہ عنوان :