سابق صوبائی وزیر تعلیم میر ناصر جمالی ہزاروں اشکبار آنکھوں کے ساتھ آبائی قبرستان روجھان جمالی میں سپرد خاک ، نماز جنازہ میں قبائلی سرداروں اور اعلیٰ سیاسی شخصیات کی شرکت

پیر مارچ 17:12

اوستہ محمد ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔30مارچ۔2015ء ) جمالی قبائل کے سردار و سابق صوبائی وزیر تعلیم میر ناصر خان جمالی حرکت قلب بند ہونے سے کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے، نماز جنازہ میں ہزاروں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ آبائی قبرستان روجھان جمالی میں سپرد کردیا گیا، نماز جنازہ میں مختلف قبائل کے سرداروں ، میر مقبرین کے علاوہ سندھ بلوچستان کے اعلیٰ سیاسی شخصیات و ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔

میر ناصر خان جمالی 1977ء میں آبائی گاؤں زور گڑھ میں پید اہوئے جبکہ ابتدائی تعلیم کے ساتھ ہی گریجویشن ایچ ای سن کالج لاہو رسے حاصل کی ، کمیشن کے ذریعے سیکنڈ لیفٹیننٹ آرمی میں منتخب ہوئے ، آرمی میں کیپٹن منتخب ہونے کے بعد 6 ماہ سیاچن کے محاذ پر اپنے فرائض سرانجام دیئے بعد ازاں آرمی سے ریٹائرمنٹ لے لی جس کے بعد 2010ء میں اپنے بڑے بھائی سردار زادہ رستم خان جمالی کی شہادت سے خالی ہونیوالی حلقہ پی پی 25 جعفرآباد 1 کی نشست پر پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے جس کے بعد صوبائی وزیر تعلیم بلوچستان کے عہدے پر فائز رہے ۔

(جاری ہے)

گزشتہ شب کراچی میں اچانک حرکت قلب بند ہونے سے سردار زادہ میر ناصر خان جمالی وفات پاگئے جس کی نماز جنازہ گھوٹ زور گڑھ میں ادا کی گئی نماز جنازہ میں مختلف قبائل کے سرداروں ، میر مقبرین کے علاوہ سندھ بلوچستان کے اعلیٰ سیاسی شخصیات و ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی جنہیں ہزاروں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ آبائی قبرستان روجھان جمالی میں سپرد کردیا گیا ۔

سردار زادہ میر ناصر خان جمالی کی وفات کے سوگ میں اوستہ محمد گندافہ کے تمام سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے ، میر نآسر خان جمالی کی وفات سے سردار فیملی او رجمالی خاندان اور علاقے کی سیاست میں پیدا ہوانیلا خلاء کبھی پر نہ ہوسکے گا ، اوستہ محمد کے اقلیتی برادری اور غریب عوام ایک ہمدرد رہنماء سے محروم ہوگئے ۔

متعلقہ عنوان :