ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جبری گمشدگی اور امریکی قید میں 12 سال مکمل ہونے پر ایک مظاہرہ

پیر مارچ 17:22

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔30مارچ۔2015ء ) آمنہ مسعود جنجوعہ کی تنظیم ڈیفینس آف ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں امریکہ کی قید میں 12 سال مکمل ہونے پر ایک مظاہرہ کیا گیا۔ بارہ سال قبل 30 مارچ 2003 کو ڈاکٹر عا فیہ کو ان کے تین بچوں سمیت اغوا کر لیا گیا۔ پانچ سال بعد ان کو ناگفتہ بہ حالت میں افغانستان کے راستے امریکہ پہنچا کر ایک جعلی مقدمہ میں 86 سال کی قید سنا دی گئی۔

اس دوران ہر سیاستدان اور حکمران ڈاکٹر عافیہ کو واپس لانے کے وعدے کرتا رہا مگر حکومت میں آنے کے بعد سب وعدے ریت پر تحریر کی طرح غائب ہو تے گئے۔ ڈیفینس آف ہیومن رائٹس کی چیر پرسن، جو اس وقت جبری گمشدگی کے حوالے سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے لیے تھائی لینڈ میں ہیں کی طرف سے ایک پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر حکومتی حلقوں کی خاموشی ہر غیرتمند پاکستانی کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

(جاری ہے)

یہ بے حسی تمام پاکستانیوں کو پیغام دے رہی ہے کہ اس ملک کے طاقتور لوگ اپنے مفادات کے لیے کسی بھی شہری کو بیچ سکتے، قتل کر سکتے ہیں اور زندہ درگور کرسکتے ہیں۔ ڈیفینس آف ہیومن رائٹس کے ضلعی صدر وقاص زاہد نے ڈاکٹر عافیہ پر ہونے والے ظلم پر احتجاج کرتے ہوئے کہا، " بطور نوجوان میں حیران ہوں کہ عزت، غیرت، حمیت کے جو سبق ہمیں بچپن سے پڑھائے جاتے ہیں کیا وہ سب جھوٹ اور ڈھکوسلہ ہیں" مظاہرے میں شامل عامر بن محمود کا کہنا تھا کہ اگر محمد بن قاسم کے دیس کی بیٹی کی پکار سننے والا کوئی نہیں تو نئی نسل کو ایسی تاریخ پڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مظاہرے میں عافیہ موومنٹ کے نمائندوں کے علاوہ بڑی تعداد میں سول سوسائٹی نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ عنوان :