مزدور طبقے کی فلاح وبہبود اورچائلڈ وجبری مشقت کا خاتمہ اولین ترجیح ہے‘راجہ اشفاق سرور

پیر مارچ 17:38

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔30مارچ۔2015ء ) صوبائی وزیر محنت و انسانی وسائل راجہ اشفاق سرور نے کہا ہے کہ مزدور طبقے کی فلاح و بہبود اور چائلڈلیبر وجبری مشقت کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔حکومت پنجاب مزدورں کے حقوق کا تحفظ، دوران کار حفاظتی امور بہتر بنانے ، سوشل سکیورٹی سہولیات کی فراہمی اور لیبرلاز پر عملدرآمدسمیت مختلف اقدامات عمل میں لا رہی ہے۔

انہوں نے یہ بات ادارہ سوشل سکیورٹی ہیڈ آفس میں محکمہ لیبر کے تحت مختلف اداروں کی کارکردگی بارے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ ایڈیشنل سیکرٹری لیبر سید مبشر حسین، ڈی جی لیبر محمد سلیم حسین، سیکرٹری پنجاب ورکرز ویلفیئر بورڈ،وائس کمشنر سوشل سکیورٹی کے علاوہ محکمہ لیبر کے متعلقہ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت پنجاب 5.2بلین روپے کے خطیر فنڈ سے مختلف اضلاع سے چائلڈ لیبر و جبری مشقت کے خاتمے کیلئے میگاپراجیکٹ کا آغاز کر چکی ہے۔

حکومت آئی ایل او کے لیبر سے متعلقہ تمام کنونشنز کی بھرپور پاسداری کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ جی ایس پی پلس سٹیٹس سے استفادہ کرکے پنجاب کی ٹیکسٹائل مصنوعات کو یورپی مارکیٹ میں ڈیوٹی فری فراہمی کویقینی بنانے کیلئے صوبائی کابینہ کمیٹیاں باقاعدگی سے اجلاس منعقدکرکے مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔ ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹیاں اضلاع کی سطح پر چائلڈ لیبر و جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے امور انجام دے رہی ہیں۔

وزیر محنت راجہ اشفاق سرور نے کہا کہ گارمنٹس سیکٹر میں 18کروڑ روپے کی لاگت سے لیبر لاز کے نفاذ کیلئے ڈیڑھ سالہ منصوبے کا آغاز بھی کیاجاچکا ہے جبکہ 20ملین روپے کی لاگت سے صوبہ پنجاب کے 10اضلاع میں چائلڈ لیبر بارے حقیقی اعداد و شمار حاصل کرنے کیلئے چائلڈ لیبر سروے بھی جاری ہے جس کی مدد سے صوبہ میں چائلڈ لیبر کے ناسور کے خاتمے میں بھرپور مدد ملے گی۔

انہوں نے بتایاکہ بھٹوں پر اینٹوں کی جدید ٹیکنالوجی اور مشینوں کے ذریعے تیاری کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی کی سٹڈی کی جا رہی ہے جس سے بھٹہ مزدوروں کو استحصال سے بچانے اور ان کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے بچانے میں مدد ملے گی۔ راجہ اشفاق سرور نے بتایاکہ جبری مشقت کے خاتمے کیلئے 196ملین روپے کی لاگت سے سرگودھا، فیصل آباد، گجرات اور بہاولپور میں ایک مربوط منصوبہ بھی شروع کیاگیا ہے۔نیز 71.5ملین روپے کی لاگت سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مزدوروں کے بچوں کو نان فارمل ایجوکیشن فراہم کرنے کے علاوہ محنت کشوں کی سکل ڈویلپمنٹ اور استعدادکار بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔

Your Thoughts and Comments