محکمہ پولیس کے تمام آفیسران اور ملازمین پر اللہ کی طرف سے اس وقت نوازنے کا کام شروع ہوتا ہے جب وہ اپنے ضمیر اور اپنے اللہ کے سامنے جواب دہ ہو کر اپنا احتساب خود کرے کیونکہ جب اس کا ایمان پختہ اور مکمل ہو گا تو وہ بحیثیت تفتیشی آفیسر تفتیش بھی ٹھیک کر کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے گا ، پولیس آفیسر سرفراز خان ورک

پیر مارچ 17:43

محکمہ پولیس کے تمام آفیسران اور ملازمین پر اللہ کی طرف سے اس وقت نوازنے ..

جہلم (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔30مارچ2015ء) محکمہ پولیس کے تمام آفیسران اور ملازمین پر اللہ کی طرف سے اس وقت نوازنے کا کام شروع ہوتا ہے جب وہ اپنے ضمیر اور اپنے اللہ کے سامنے جواب دہ ہو کر اپنا احتساب خود کرے کیونکہ جب اس کا ایمان پختہ اور مکمل ہو گا تو وہ بحیثیت تفتیشی آفیسر تفتیش بھی ٹھیک کر کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے گا جبکہ کسی بیگناہ کو اپنی ایف آئی آر اور تفتیش میں شامل نہیں کرے گا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرفراز خان ورک نے ایک حصوصی انٹرویو میں کہا کہ جب میری جہلم میں بحیثیت ڈی پی او تعیناتی ہوئی تو میں نے ضلع میں ہونے والے ڈکیتی قتل ، راہزنی کے علاوہ اغوا برائے تاوان کے ساتھ ساتھ اندھے قتل کے مقدمات سرد خانے میں پڑے تھے جن کے بارے میں میں نے ضلع کے تمام ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کا اجلاس بلا کر انہیں کارکردگی بہتر بنانے کے لئے کہا جبکہ ضلع جہلم میں منشیات فروشی عروج پر تھی اور منشیات فروش ایک منظم گروہ کی صورت میں سفید پوش بنے ہوئے تھے اسی طرح دوسرے اضلاع سے آئے ہوئے بدنام زمانہ اشتہاری جو پنجاب کے کئی اضلاع میں سنگین مقدمات میں ملوث تھے جو یہاں کے اشتہاری افراد کے ساتھ مل کر ڈکیتی کی وارداتیں کرتے تھے ضلع میں جرائم کے خاتمہ کے لئے تمام ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز اور پولیس ملازمین کے ہمراہ ایک جامعہ حکمت عملی بنائی جس میں بین الصوبائی ڈکیت گروپ جنہوں نے رات کو گاڑیوں کو روک کر آتشی اسلحہ کے زور پر لوگوں کو لوٹنا اور فائرنگ کر کے لوگوں کو جان سے مارنا اپنا معمول بنا لیا تھا اسی طرح انہوں نے مسمی شاہد محمود سکنہ چک دریا جو اپنی گاڑی پر گجر خان جا رہا تھا جب بوقت 4بجے صبح بٹالی ڈھیر کے نزدیک پہنچا تو اچانک چار نامعلوم اشخاص نے مسلح آتشی اسلحہ کے زور پر ان کو روک کر ان سے نقدی موبائل فون اور کیری ڈبہ لے کر فرار ہو گئے اس وقت میں رات تمام تھانوں اور پولیس ناکوں کی چیکنگ کے لئے مصروف تھا اسی اثناء جب اس ڈکیتی کی کال چلی تو میں نے فوری طور پر تین سکواڈ تشکیل دے کر تمام علاقوں کی ناکہ بندی کروا دی یہ ڈاکو جب سوہاوہ ترکی ٹول پلازہ پر پہنچے تو انہیں پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس پر پولیس ‡¦žŸکی جوابی فائرنگ سے تین دہشت کی علامت ڈاکو ہلاک ہو گئے جس سے ضلع کے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا اسی طرح ضلع جہلم میں ہونے والے دو اندھے قتل کے مقدمات میں ملوث مجرمان کا سراغ ایک سال کے بعد لگا کر ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ یہ مقدمات سرد خانے میں ڈال دیئے گئے تھے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرفراز خان ورک نے بتایا کہ میں نے جب جہلم میں بحیثیت ڈی پی او چارج لے کر تمام زیرِالتوا مقدمات کے ضمن میں تفصیلی رپورٹ منگوائی تو میں حیران ہوا کہ پینتیس، چالیس سال سے ایک کنبہ محمد نائب سکنہ کھائی کوٹلی تھانہ چوٹالہ کا رہائشی تھا جس کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور وہ فرانس میں ہی رہائش پذیر ہیں اور جب وہ پاکستان آئے تو محمد نائب اپنی بیوی اور اپنی بہو افضہ ریاض کے ہمراہ آئے ایک رات وہ علیحدہ رہائشی کمرہ میں سو گیا جبکہ اس کی بیوی اور بہو دوسرے کمرے میں سو گئیں صبح تقریباً چار بجے بیدار ہو کر اس کی بیوی محمد نائب کے کمرے میں گئی تو دیکھا کہ کمرہ کی لائٹ جل رہی ہے اور الماری میں سے زیورات کے ڈبے اور کمڑے بکھرے پڑے ہیں جبکہ خاوند کی نعش بیڈ پر پڑی ہوئی تھی جس کے گلے میں شال نما کپڑے کا پھندا اور منہ میں بھی شال ٹھونسی ہوئی تھی جبکہ طلائی زیورات اور نقد رقم غائب تھی جس کا میں نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی صدر سرکل حاجی راجہ طاہر بشیر کی قیادت میں ایک سپیشل ٹیم تشکیل دے کر اس کیس کے ملزمان کو ٹریس کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ اس ٹیم نے مہربان عرف شانی جو مقتول محمد نائب کے پاس ملازم بھی رہا تھا اور اس کی بہن بھی مقتول کے گھر ملازمہ تھی اور مہربان کی بیوی فوت ہو جانے پر محمد نائب مقتول مہربان کے شیر خوار بیٹے کو خود اپنے ہاتھوں سے دودھ پلاتا اور اس کی دیکھ بھال کرتا تھا اس پولیس ٹیم نے جب تکنیکی بنیادوں پر تفتیش کا دائرہ وسیع کر کے گھیراؤ کیا تو ملزمان پولیس کے جال میں آ گئے اور ان کی نشاندہی پر ملزمان مہربان ، عمران، مصطفیٰ اور عامر کو گرفتار کر کے ان سے زیورات موٹرسائیکل اور نقدی بر آمد کر کے اس سرد خانے میں پڑے ہوئے مقدمے کو پروان چڑھایا اسی طرح دوسرا قتل ایک لڑکی کا تھا جس کی بابت علم ہی نہ ہو رہا تھاکیونکہ احمد حبیب سکنہ محمود آباد کے مطابق اس کی بہن مسماة صائقہ اپنے بچوں کے ہمراہ میکے آئی ہوئی تھی جو مورخہ21-11-2013:سودا سلف لینے بازار گئی تو اس کے بعد واپس نہ آئی جس کی نعش کوٹلی اللہ یار روڈ سے ملی جس کو فائر کر کے قتل کر دیا یہ اندھا قتل پولیس کے لئے ایک چیلنج تھا جس کے بارے میں میں نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جنہوں نے دن رات محنت کر کے شبہ کی بنیاد پر ملزم احسان کو حراست میں لیا جس نے بتایا کہ وہ مقتولہ صائقہ کو بلیک میل کر کے نقد رقم اور طلائی زیورات وصول کرتا رہا تھا جب صائقہ نے اس سے دیئے گئے طلائی زیوارات اور نقدی واپس کرنے پر اصرار کیا تو تنگ آ کر اس کو فائر مار کر قتل کر دیا جبکہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے اس سے پسٹل بھی برآمد کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع میں منشیات فروشی عروج پر تھی اور نوجوان نسل جو ہمارے ملک کے کل کا مستقبل ہیں تباہ ہو رہی تھی جس پر ضلع میں منشیات فروشی کے خاتمے کے لئے ایک جامع پروگرام بنا کر جب ان کے خلاف آپریشن کیا گیا تو 148.481 KGچرس ، 9128بوتل شراب اور 7.800 KGہیروئن برآمد کر کے ملزمان کو گرفتار کیا جس سے ضلع میں منشیات کی فروخت اور پینے کے حوالے سے بہت کمی آئی ہے انہوں نے کہا کہ 583اشتہاری ملزمان گرفتار کر کے ان سے 5کلاشنکوف ،42رائفلز،64بندوق ،38ریوالور،386پسٹلز ،1کاربائن جبکہ 8914گولیاں برآمد کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے انہوں نے بتایا کی پورے ضلع میں چھوٹے موٹے جرائم معمول کا حصہ بن چکے تھے جس پر پورے ضلع میں سپیشل محافظ سکواڈ ترتیب دیئے گئے جن کا رابطہ ریسکیو 15سے منسلک کر کے انہیں گشت اور چیکنگ کے ساتھ ساتھ فوری امداد کی پالیسی کا سبق دیا جنہوں نے بہترین محافظ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے وارداتوں میں کمی کی کیونکہ نومبر کے مہینہ میں ان کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے ضلع جہلم میں ڈکیتی ، سرقہ بالجبر کی کوئی واردات نہ ہوئی ہے جس کے لئے عوامی حلقوں سے مبارکباد کے فون بھی آتے ہیں اور لوگ بھی آکر میری نہیں بلکہ میرے تمام پولیس ملازمین کی تعریف بھی کرتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے بتایا کہ میں نے ضلع سے پولیس کے تبادلوں کے حوالے سے سیاسی کلچر کو ختم کر دیا ہے جبکہ تمام پولیس ملازمین کو بلا کر ان کو ان کے کہنے پر تھانے میں لگاتا ضرور ہوں لیکن اس کا میرٹ اس کی کارکردگی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا مشن اور میرا عزم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے لوگوں کو امن اور سکون دینے کے لئے یہاں بھجوایا ہے جس کو میں انشاء اللہ پورا کروں گا۔ کیونکہ رات کو میں خود تمام ناکے اور پولیس کی پٹرولنگ کو چیک کرتا ہوں جبکہ ضلع کا جب امیر جاگے تو پولیس کو جاگنے میں کوئی اعتراض نہ ہے اور نہ ہو گا ۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments