جامعہ بنوریہ عالمیہ کے طلبہ وطالبات کے سالانہ امتحانات کا آغاز ہوگیا

جمعرات 7 مئی 2015 22:21

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 07 مئی۔2015ء)ملک بھر کے دینی مدارس کے سالانہ امتحانات کا آغاز،معروف علمی دینی درسگاہ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے طلبہ وطالبات کے سالانہ امتحانات کا آغاز ہوگیا، 1788غیر وفاقی درجات کے طلبہ وطالبات اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے تحت بی اے کے 35طلبہ وطالبات امتحانات میں شریک ہیں جبکہ16مئی سے مدارس کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت جامعہ بنوریہ عالمیہ کے ملکی وغیر ملکی 1899 طلبہ وطالبات شرکت کرینگے۔

جس کے ساتھ ہی ملک بھر کے دینی مدارس کا تعلیمی سال 2014-15اختتام ہوجائے گا ۔جمعرات کو جامعہ بنوریہ عالمیہ کے طلبہ وطالبات کے سالانہ امتحانات کا آغاز ہوگیا۔امتحانات کو بحسن و خوبی تکمیل کیلئے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور اس کیلئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ کمیٹیوں کی نگرانی جامعہ بنورعالمیہ کے ناظم تعلیمات مولانا عبدالحمید کو انتظامی کمیٹیوں کا نگران مقرر کیاگیا ہے ، امتحانات میں شعبہ حفظ وناظرہ قرآن کریم کے شعبہ ملکی وغیر ملکی کے علاوہ شعبہ درس نظامی کے غیر وفاقی درجات میں جن میں اعدایہ ، اول ، دوئم ، درجہ اولیٰ ، ثالثہ ، خامسہ اور تخصص فی الفقہ الاسلامی (اسپیلائزیشن ان فقہ اینڈ حدیث ،مفتی کورس ) اور وفاقی اردو یونیورسٹی سے منسلک جامعہ بنوریہ عالمیہ کے طلبہ وطالبات کے پرچے ہورہے ہیں ، غیر وفاقی امتحانات میں شریک طلبہ وطالبات کے مجموعی طور پر 1788طلبہ طالبات امتحان دے رہے ہیں جبکہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے تحت بی اے کے امتحانات میں 35طلبہ وطالبات شریک ہیں ،و اضح رہے کہ جامعہ بنوریہ عالمیہ وفاق المدارس العربیہ کی طرح وفاقی اردو ینورسٹی سے بھی منسلک ہے، جہاں سے سالانہ درجنوں طلبہ وطالبات عصری علوم کی ڈگری بھی حاصل کرتے ہیں ۔

(جاری ہے)

جبکہ مدارس دینیہ کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ وفاق المدارس کے کتب کے طلبہ کے امتحانات کا آغاز 16مئی سے ہوگا جس میں جامعہ بنوریہ عالمیہ کے 1899طلبہ شرکت کرینگے۔ دریں اثناء شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے جمعرات کو امتحان ہال کا دورہ کیا اور احسن انتظامات پر اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ نقل ورشوت سے مبراہ امتحانی نظام مدارس کی امیتازی شان ہے ، عصری اداروں میں نقل کا رجحان نسل نو کو تباہی کے دھانے پر لے جارہاہے جبکہ مدارس کے طریقہ امتحان میں نقل کی کوئی گنجائش نہیں ، مدارس کے نصاب اور نظام کی تبدیلی کی باتیں کرنے والے عصری اداروں کا قبلہ درست کریں جہاں پیسے لیکر ڈگری حاصل کرنا معمول بن چکاہے ، انہوں نے کہاکہ تعلیم کسی بھی قومیت ،ملک ، مذہب کا اہم ستون ہے اس میں سستی کرنے والی قومیں کبھی ترقی نہیں کرسکتیں ہمیں اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے طلبہ کو تعلیم کے سستے مواقع فراہم کرتے ہوئے نقل اور رشوت کے ناسورسے پاک کرنا ہوگا،انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں مدارس کا تعلیمی نظام قابل تقلید ہے جہاں نقل تو کیا دوران امتحان طلبہ استاد کے سامنے سر اٹھانے کی بھی جرات نہیں کرتے ۔