فضل قادر خلافت کے منقطع سلسلہ کو دوبارہ جوڑنے کیلئے اٹھے تھے، شہداء سپینہ تنگی کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،محمد ابراہیم خان

حکومت پاکستان کی جانب سے بھارتی شرائط تسلیم نہ کرے، کشمیر کے بغیر مذاکرات نہ کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہیں، امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا

پیر اگست 21:51

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 24 اگست۔2015ء) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ فضل قادر خلافت کے منقطع سلسلہ کو دوبارہ جوڑنے کے لئے اٹھے تھے۔ شہداء سپینہ تنگی کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ فضل قادر شہید کی تحریک خلافت کی جدوجہد جاری رہے گی۔حکومت پاکستان کا بھارت کی شرائط تسلیم کرنے اور کشمیر کے بغیر مذاکرات نہ کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہیں۔

کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ حکومت مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت سے ہر قسم کے سفارتی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات منقطع کرے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن حکمران اسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے۔ پاکستان کو مدینہ جیسی اسلامی ریاست بنانے کے لئے جدوجہد کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

افغانستان میں پچھلی تین صدیوں میں تین سپر طاقتوں نے شکست کھائی۔

افغانستان اور پاکستان امت مسلمہ کی قیادت سنبھال سکتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلط فہمیوں سے دونوں ملکوں کے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ فضل قادر شہید آڈیٹوریم ہال بنوں میں شہداء سپینہ تنگی کی یاد میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے نائب امیر مشتاق احمد خان، جماعت اسلامی ضلع بنوں کے امیر ڈاکٹر ناصر خان، سیکرٹری جنرل اجمل خان، فضل قادر شہید کے نواسے حبیب الرحمن اور بیرسٹر افتخار درانی نے بھی خطاب کیا۔

پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ قاضی فضل قادر شہید اور ان کے رفقاء خلافت علی منہاج النبوہ کے شہداء کے ہیں۔ انگریز کے خلاف ان کا جہاد اﷲ کی زمین اور اﷲ کے بندوں پر اﷲ کے نظام کا قیام تھا۔ ہماری آزادی میں ان کے خون کا نظرانہ شامل ہے۔ قاضی فضل قادر کی جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا اور ایک فعہ پھر خلافت کا نظام قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر کے بغیر مذاکرات کا خواہاں ہے لیکن ہم پاکستانی حکومت کے اس فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس فیصلے کی تحسین کرتے ہیں کہ بھارت کی کوئی شرط قبول نہیں کی جائے گی۔

کشمیر کے بغیر مذاکرات نامکمل ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور اس کے بغیر کسی قسم کے مذاکرات قبول نہیں۔ بھارت کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے والے دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں۔ پاکستان میں افغانستان کے خلاف اور افغانستان میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والے دشمنوں کے اشارے پر ناچ رہے ہیں۔

ان دونوں کی آپس میں لڑائی کسی کے بھی حق میں نہیں بلکہ اس سے مشترکہ دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ افغان مہاجرین کی پاکستان میں قیام کے دو سال توسیع دینے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ افغان مہاجرین ہمارے مہمان ہیں ۔ پولیس اور دیگر ایجنسیاں انہیں بے جا تنگ نہ کریں اور نہ ہی انہیں ملک سے نکالنے کی دھمکیاں دیں۔

اگر پولیس کا رویہ افغان مہاجرین کے ساتھ ٹھیک ہوگا تو وہاں بھی پاکستان کا جھنڈا نہیں جلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے شمالی وزیرستان کا جتنا حصہ کلیئر قرار دیا ہے اس میں وہاں کے لوگوں کو دوبارہ بسانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ بعد ازاں پروفیسر محمد ابراہیم خان ، مشتاق احمد خان و دیگر نے قاضی فضل قادر کی قبر پر جاکر فاتحہ خوانی کی۔