پاکستان میں زرعی تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کی اشد ضرور ت ہے، سکندر حیات خان بوسن

پائیدار بنیادوں پر فصلوں کی پیداوار بہتر ، زراعت کو مسابقتی اور منافع بخش بنانے کیلئے سخت محنت اور کوششیں کررہے ہیں کسان زرعی شعبہ میں جدت لانے کے پروگرام کے مداخل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ، وفاقی وزیر کا کانفرنس سے خطاب

پیر اگست 22:06

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 24 اگست۔2015ء) وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اور ریسرچ سکندر حیات خان بوسن نے کہا ہے کہ ہم پائیدار بنیادوں پر فصلوں کی پیداوار کو بہتر بناتے ہوئے زراعت کو مسابقتی اور منافع بخش بنانے کے لیے سخت محنت اور کوششیں کررہے ہیں تاہم بڑھتی ہوئی آبادی اور کاشتکاری کے لیے دستیاب رقبہ میں کمی، بھوک اور کم پیداوار کا اثر غذائی قلت اور غربت کے اثرات شدید ہوسکتے ہیں ۔

پیر کو زرعی جدت کے پروگرام کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ زر عی جدت کا پروگرام پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی دی انٹرنیشنل میز اینڈ وہیٹ امپورمنٹ سینٹر) کے اشتراک سے ہونے والی کوشش ہے جس کا مقصد پاکستان کے زرعی شعبہ میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرناہے اور زرعی شعبہ میں جدت لانے کیلئے اس پروگرام سے پاکستان میں اقتصادی ترقی اور کسانوں کی آمدن سے اضافہ کا امکان ہے۔

(جاری ہے)

کیونکہ اس کے تحت کسانوں کو پیداوار بڑھانے کے لیے جدید ترین آلات کی فراہمی، پیداوار میں اضافہ کے لیے مہارت بڑھاکرانہیں جدید ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ کے مروجہ طریقوں سے آگاہ کرنا ہے۔وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں زرعی تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کی اشد ضرور ت ہے ۔ وزیر نے ابھرتی ہوئی عالمی ٹیکنالوجیز کے اثرات پر نظر رکھنے اور ان میں سے مناسب ٹیکنالوجیز متعلقہ کسانوں کو فراہم کرنے پر زور دیا۔

وزیر نے کسانوں سے کہا کہ وہ زرعی شعبہ میں جدت لانے کے پروگرام کے مداخل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کا شتکاری کے نئے نئے طریقے سیکھیں نئی ٹیکنالوجیز اپنائیں اور پاکستان میں خوراک کے حوالے سے تحفظ کے لیے زرعی پیداوار کو بہتر بنائیں۔بعدازاں وفاقی وزیر نے انٹرنیشنل میز اینڈو ہیٹ امپورمنٹ سنٹر (سی آئی ایم ایم وائی ٹی) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مارٹن کروپف کی قیادت میں (سی آئی ایم ایم وائی ٹی) کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کی۔

اس موقع پر مستقبل میں اشتراک کے لیے بورلاگ انسٹی ٹیوٹ فار ساؤتھ ایشیا کے قیام، ڈبلیو پی ای پی فیز 2، جرمو پلازم کے تبادلہ میں اضافہ بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر نے فصلوں کی کاشت کے طریقوں پر نظرثانی ، نوجوان سانئنس دانوں کی تربیت پیداوار میں اضافہ کے لیے مشترکہ تحقیق مٹی کے تجزبہ اور میپنگ کی ضرورت پر زور دیا۔آخر میں وزیر نے یو ایس ایڈ، انٹرنیشنل ماہرین، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل، انٹرنیشنل میز اینڈ وہیٹ امپرومنٹ سینٹر اور زرعی جدت کے پروگرام کے شراکت داروں کے اس مسلسل تعاون کا اعتراف کیا جو کہ پاکستان میں زرعی ترقی کا محورہے۔