کے ایس ای میں غیر معمولی مندی ،کے ایس ایس 100 انڈیکس 1419 پوائنٹس کی تاریخی کمی سے 3ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

سرمایہ کاروں کے 2 کھرب 69 ارب روپے سے زائد ڈوب گئے، کاروباری حجم 2.56 فیصد کم ریکارڈ کیا گیا،بیشتر شئیرز اپنے لوور لوک پر بند ہوئے اسٹاک ایکسچینج میں مندی میں سیاسی صورت حال کا عمل دخل نہیں بلکہ عالمی مارکیٹس میں دباؤ اور چین کی سونے کے کاروبار میں دلچسپی کے باعث ہوا ہے، مزمل اسلم

پیر اگست 22:32

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 24 اگست۔2015ء) کراچی اسٹاک ایکس چینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کو غیر معمولی مندی ریکارڈ کی گئی۔ کے ایس ایس 100 انڈیکس 1419 پوائنٹس کی تاریخی کمی سے 3ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا۔ سرمایہ کاروں کے 2 کھرب 69 ارب روپے سے زائد ڈوب گئے۔ کاروباری حجم گزشتہ روز کی نسبت 2.56 فیصد کم جبکہ 92.48 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

کاروبار کا آغاز ملے جلے رجحان سے ہوا تاہم سیاسی افق پر بے یقینی کی کیفیت اور سرمایہ کاروں کی جانب سے اپنے حصص اونے پونے داموں فروخت کرنے کے باعث مارکیٹ کریش ہوگئی اور 1419.43 پوائنٹس کی تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی۔ بیشتر شئیرز اپنے لوور لوک پر بند ہوئے۔بروکرز کے مطابق چین کی معیشت کے بار میں خدشات ، چینی یوان سستا کیے جانے کے بعد کرنسی کی ممکنہ جنگ کے آغاز ، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ اور بیرونی سرمایا کاروں کی جانب سے رقم نکالے جانے کے باعث شیئر بازار کریش کرگیا۔

گزشتہ ہفتے سے اب تک ایکس چینج میں 50 کروڑ ڈالر سے زائد نکالے جاچکے ہیں۔ ماہر معاشیات مزمل اسلم کے مطابق کراچی اسٹاک ایکسچینج میں مندی میں پاکستان کی سیاسی صورت حال کا کوئی عمل درخل نہیں بلکہ یہ سب بین الاقوامی مارکیٹس میں دباؤ اور چین کی سونے کے کاروبار میں دلچسپی کے باعث ہوا ہے، کے ایس سی میں ہونے والی مندی عارضی ہے اور ایک دو روز میں صورت حال معمول پر آ جائے گی۔

کے ایس ای 100 انڈیکس 34519.77 پوائنٹس سے گھٹ کر 3ماہ کی کم ترین سطح33100.34 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مجموعی طور پر 286 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 24 کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں اضافہ، 357 کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں کمی جبکہ 5کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں استحکام رہا۔ سرمایہ کاری مالیت میں 2 کھرب 69 ارب 73 کروڑ 2 لاکھ 59 ہزار 544 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت گھٹ کر 71 کھرب 94 ارب 90 کروڑ14 لاکھ 39 ہزار 935 روپے ہوگئی۔

مجموعی طور پر 32 کروڑ 25 لاکھ 53 ہزار 740 شیئرز کا کاروبار ہوا جو جمعہ کے مقابلے میں 80 لاکھ 55 ہزار 410 شیئرز کم ہیں۔ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حساب سے پاک ٹوبیکو کے حصص سرفہرست رہے جس کے حصص کی قیمت 39.25 روپے اضافے سے 824.25 روپے، سن رائز ٹیکسٹائل کے حصص کی قیمت 16.05 روپے اضافے سے.00 384 روپے پر بند ہوئی۔ نمایاں کمی باٹا پاکستان کے حصص میں ریکارڈ کی گئی جس کے حصص کی قیمت 169.50 پوائنٹس کمی سے 30220.50 روپے جبکہ کولگیٹ پامولیو 72.50 روپے کمی سے 1377.50روپے پر بند ہوئی۔

پیر کو کے الیکٹرک لمیٹڈ کی سرگرمیاں 6 کروڑ 39لاکھ 4 ہزار شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہیں جس کے شیئرز کی قیمت 76پیسے کمی سے 7.16 روپے اور لوٹے کیمیکل کی سرگرمیاں 1 کروڑ 89 لاکھ 39 ہزار 500 شیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں جس کے شیئرز کی قیمت 99 پیسے کمی سے 6.72 روپے پر بند ہوئیں۔ پیر کو کے ایم آئی 30 انڈیکس 2825.92 پوائنٹس کمی سے 54737.68 پوائنٹس جبکہ کے ایس ایس آل شیئرز انڈیکس 900.33 پوائنٹس کمی سے 23228.29 پوائنٹس پر بند ہوئے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments