رواں سال پاکستان میں کاٹن انڈسٹری کے معاشی بحران کاشکارہونے کیساتھ روئی ،پھٹی کی قیمتوں میں ریکارڈمندی کے رجحان کاخدشہ

ٹیکسٹائل وکاٹن انڈسٹری کے غیرمعمولی بحران میں مبتلاہونے کے باوجودپچھلے 6ماہ سے پاکستان میں وفاقی وزیرٹیکسٹائل کی تعیناتی نہ ہوسکی

پیر اگست 22:32

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 24 اگست۔2015ء) جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے کے باوجود کاٹن ایکسپورٹس میں غیرمعمولی کمی اورتوانائی ودیگرمشکلات کے باعث ٹیکسٹائل ملزبندش رجحان میں مسلسل اضافے کے باعث رواں سال پاکستان میں کاٹن انڈسٹری کے معاشی بحران کاشکارہونے کے ساتھ ساتھ ،روئی اورپھٹی کی قیمتوں میں ریکارڈمندی کے رجحان کاخدشہ۔ٹیکسٹائل وکاٹن انڈسٹری کے غیرمعمولی بحران میں مبتلاہونے کے باوجودپچھلے 6ماہ سے پاکستان میں وفاقی وزیرٹیکسٹائل کی تعیناتی نہ ہوسکی۔

چئیرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کے تقریباً ڈیڑھ سال قبل پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے ملنے والے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے بعدتوقع ظاہرکی جارہی تھی کہ اس سے پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس میں کم ازکم 100فیصداضافے کارجحان سامنے آنے سے پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس 13بلین ڈالرسے بڑھ کر26بلین ڈالرتک پہنچ جائیں گی جس سے روئی اورپھٹی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے کسانوں کی فی ایکٹرآمدنی میں بھی خاطرخواہ اضافہ سامنے آئے گالیکن اس کے برعکس موجودہ حکومت کی انٹی کاٹن انڈسٹری اوربھارت نوازپالیسیوں کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل وکاٹن انڈسٹری اس وقت تاریخ کے بدترین بحران کاشکارہونے سے جولائی 2015ء کے دوران پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس میں جولائی 2014ء کے مقابلے میں ریکارڈ 12فیصدکمی واقع ہوئی ہے جس سے پاکستان بھرمیں تشویش کی لہردیکھی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی کل برآمدات میں 50فیصدسے زیادہ حصہ رکھنے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی وزارت پچھلے 6ماہ سے خالی ہے جبکہ توانائی کے غیرمعمولی بحران،بھارت سے انتہائی کم ڈیوٹی پرسوتی دھاگے کی درآمد اورایف بی آر کے پاس برسوں سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے رکے ہوئے اربوں روپے کے ریفنڈزجاری نہ ہونے سے موجودہ حکومت کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لئے لی جانے والی دلچسپی کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے اگرہنگامی بنیادوں پر ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل حل نہ کئے توہماری کاٹن ایکسپورٹس میں مزید کمی واقع ہونے کے باعث ہماری ملکی اورزرعی معیشت بھی غیرمعمولی مسائل کاشکارہوسکتی ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments