گھوسٹ پینشنرز اسکینڈل کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی ،پینشن نظام کا جائزہ لینے کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کااجلاس تین ستمبر کو طلب کرلیا گیا ہے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا کابیان

پیر اگست 22:36

کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 24 اگست۔2015ء ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے گھوسٹ پینشنرز اسکینڈل کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا۔ پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے اپنے ایک بیان میں کمیٹی نے پینشنرز اسکینڈل کی مکمل تحقیقات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ پینشن نظام کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی کا اہم اجلاس تین ستمبر کو طلب کرلیا گیا ہے جس میں وفاقی، صوبائی اور پینشن کی تقسیم کار سے بلواسطہ یا براہ راست وابستہ تمام متعلقہ اداروں کو بلایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے تمام متعلقہ اداروں سے پینشن کا پندرہ سالہ ریکارڈ طلب کرلیاہے۔ اجلاس میں اس بات کاجائزہ لیا جائے گا کہ ملک بھر میں کتنے پینشنرز ہیں اور وہ ماہانہ کتنی پینشن وصول کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

متعلقہ اداروں سے پندرہ سال میں پینشن رقوم میں ہونیوالے اضافے اور کمی کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے جب کہ اس دوران وفات پانیوالے ملازمین کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

کمیٹی اس بات کی انکوائری کرے گی کہ چھ لاکھ پینشنرز نے قومی خزانے کو کن اداروں یا افراد کی ملی بھگت سے اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ گھوسٹ پینشنرز اسکینڈل اس بات کا ثبوت ہے کہ پینشن کا نظام ناکام ہوچکا ہے۔ جسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی پاکستان میں پینشن کے نظام کو شفاف اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی سفارشات پیش کرے گی تاکہ پینشنرز کو آسانی میسر آسکے اوراس نظام پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ گھوسٹ پینشنرز اسکینڈل حادثاتی طور پر کمیٹی کے سامنے آیا ہے مگر اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

متعلقہ عنوان :