نیشنل ایکشن پلان ملک کی سیکورٹی پالیسی ہے سیاست نہ کی جائے،چوہدری نثار

دہشت گردی کے تمام نیٹ ورک ختم کر دیئے مالی معاونت کے خاتمے کے عمل کو تیز کیا جارہاہے،انٹیلی جنس کے بنیاد پر 5ہزار 900آپریشن کیے گئے 62ہزار کاروائیاں،69ہزار گرفتار یاں ہوئی ،ایک ہزار 114دہشت گرد مارے گئے 885 گرفتار ہوئے، کالعدم تنظیموں کے 7900لوگ فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے کراچی،بلوچستان میں بہت بڑی تبدیلی آئی، اگلے 6ماہ ہماری توجہ فرقہ واریت کے خاتمے پر ہوگی،ہر گز برداشت نہیں کیا جائیگا کہ ایک دوسرے کو کافر کہا جائے سول ملٹری تعلقات اس وقت بہت مثالی ہیں اور بلاوجہ سول ملٹری تعلقات پر تنقیدکرنا غلط ہے، بلوچستان میں 500سے زائد فراری ہتھیار ڈال چکے ہیں نیشنل ایکشن پلان پر 8ماہ سے درست طریقہ سے عمل ہوا، ملک کے تمام بڑے شہروں میں سیکورٹی صورتحال کئی گناہ بہتر ہے،پرویز رشید کے ہمراہ پریس کانفرنس

پیر اگست 22:41

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 24 اگست۔2015ء) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک میں سیکورٹی پر سیاست نہیں ہوتی اور نیشنل ایکشن پلان پاکستان کی سیکورٹی پالیسی ہے سیاست نہ کی جائے،اس وقت ملک میں دہشت گردی کے تمام نیٹ ورک ختم ہو چکے ہیں جبکہ دہشت گردی میں مالی معاونت کے خاتمے کے عمل کو بھی تیز کیا جارہاہے، نیشنل ایکشن پلان کے بعد انٹیلی جنس کے بنیاد پر 5ہزار 900آپریشن کیے گئے ،62ہزار کاروائیاں اور 69ہزار گرفتار یاں ہوئی ،ایک ہزار 114دہشت گرد مارے گئے جبکہ 885دہشتگرد گرفتار ہوئے اور کالعدم تنظیموں کے 7900لوگ فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے، کراچی اور بلوچستان میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے، کراچی کے امن کو ہرصوت منطقی انجام تک پہنچائیں گے، اگلے 6ماہ ہماری فرقہ واریت کے خاتمے پر توجہ ہوگی ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا کہ ایک دوسرے کو کافر کہا جائے ، پاکستان کے مدرسے اسلام کے لیے کام کررہے ہیں لہذا مدرسوں کو بدنام نہ کیاجائے ۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر اطلاعات سینٹر پرویز رشید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئیوزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے مزید کہا کہ گزشتہ 40سے 50سال میں قومی سلامتی اور اندرونی پالیسی میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو درست کرنے کے لیے عرصہ درکار تھا تاہم قوم ،میڈیا اور سول ملٹری کے گٹھ جوڑ سے نیشنل ایکشن پلان پر گزشتہ 8ماہ سے درست طریقہ سے عمل ہوا جس کے باعث ملک کے تمام بڑے شہروں میں سیکورٹی صورتحال پہلے سے کئی گناہ بہتر ہے ۔

نیشنل ایکشن پلان ایک مفصل پالیسی فریم ورک ہے اور قومی لائحہ عمل کے آغاز سے اب تک بہت کامیابیاں حاصل کیں ۔ہم نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن پر توجہ دی اور اس وقت ملک میں دہشت گردی کے تمام نیٹ ورک ختم ہو چکے ہیں جبکہ دہشت گردی میں مالی معاونت کے خاتمے کو بھی تیز کیا جارہاہے ۔پاکستان میں 61کالعدم تنظیمیں ہیں جن میں سے ایک واچ لسٹ پر ہے جن کے 282لیڈرزمشکوک ہیں شہروں کی حفاظت کے لیے فوج موجود رہے گی اگلے 8ماہ انتہائی اہم ہیں ۔

اسلام آبا دپولیس کے 550اہلکاروں کو ٹرپل ون بریگیڈ سے تربیت دی جائے گی تمام صوبوں میں 1ہزار کاونٹرٹیرزم فورس تربیت مکمل کرکے گشت پر مامور ہیں ۔وزارت داخلہ نے 3ماہ میں 14کروڑ سمز کی تصدیق کی جس کے باعث دہشت گردی کا استعمال صفر ہو چکاہے 211افراد کوسزائے موت دی گئی ۔ملٹری کورٹس میں 28مقدمات کا فیصلہ ہوا جبکہ 46زیر سماعت ہیں کوئی بھی کیس سفارش پر ملٹری کورٹ میں نہیں بھیجا جائے گا۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ کسی بھی ملک میں سیکورٹی پر سیاست نہیں ہوتی اور نیشنل ایکشن پلان پاکستان کی سیکورٹی پالیسی ہے اس پر سیاست نہ کی جائے جبکہ حکومت اور وزارت داخلہ پر تنقید کرنا سب کا حق ہے تاہم صورتحال میں جوبہتری آئی اسے متنازع نہ بنایا جائے ۔صرف ملٹری آپریشن سے ملک میں دہشت گردی ختم نہیں ہوتی ،2009میں 2ملٹری آپریشن ہوئے لیکن حکومتی نااہلی کے باعث دہشت گردی میں اضافہ ہوا جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے بعد انٹیلی جنس کے بنیاد پر 5ہزار 900آپریشن کیے گئے ،62ہزار کاروائیاں اور 69ہزار گرفتار یاں ہوئی ،ایک ہزار 114دہشت گرد مارے گئے جبکہ 885دہشتگرد گرفتار ہوئے اور کالعدم تنظیموں کے 7900لوگ فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے تاہم تحقیق اور تفتیش کے بعدبے گناہوں کو چھوڑ دیا جاتاہے ۔

انہوں نے مزید کہاکہ سول ملٹری تعلقات اس وقت بہت مثالی ہیں اور بلاوجہ سول ملٹری تعلقات پر تنقیدکرنا غلط ہے اس لیے اس پر رائے زنی نہیں کرنی چاہیے ۔ پاکستان میں گزشتہ 13سال سے دہشت گردی کی جنگ بغیر کسی منصوبہ بندی کے جاری تھی جبکہ دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے کسی ادارے کے پاس کسی قسم کی کوئی معلومات ہی نہیں تھیں لیکن اب تمام ڈیٹا ریکارڈ میں موجودہے ۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے اور یہ جاری رہے گی ہم کراچی کی صورتحال کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے جبکہ رینجرز کی سپورٹ ،صوبائی حکومت اور ایم کیو ایم کو راضی رکھنا وزارت داخلہ کا کام تھا ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی مذاکراتی عمل شروع ہو چکا ہے وہاں پر 500سے زائد فراری ہتھیار ڈال چکے ہیں وہاں بہت بڑا بریک تھرو ہونے والا ہے جبکہ صوبے کے حالات کی بہتری میں کمانڈر سدن کمانڈلیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ کا بہت بڑا کردار ہے ۔

اب اگلے 6ماہ ہماری فرقہ واریت کے خاتمے پر توجہ ہوگی اور یہ ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا کہ ایک دوسرے کو کافر کہاجائے جبکہ پاکستان کے مدرسے اسلام کے لیے کام کررہے ہیں اور محب وطن ہے لہذا مدرسوں کو بدنام نہ کیاجائے پاکستان میں ایسے مدارس بھی ہیں جو اسلحہ رکھتے ہیں تاہم پاکستان کے خلاف نہیں چند ایک ایسے ہیں جو اسلحہ نہیں رکھتے جبکہ پاکستان کے مخالف ہیں دیگر اسلحہ رکھتے ہیں تاہم پاکستان کے ساتھ ساللمتی کا ردس دیتے ہیں ۔

پاکستان میں 61کالعدم تنظیمیں ہیں جن میں سے ایک واچ لسٹ پر ہے جن کے 282لیڈرزمشکوک ہیں شہروں کی حفاظت کے لیے فوج موجود رہے گی اگلے 8ماہ انتہائی اہم ہیں ۔اسلام آبا دپولیس کے 550اہلکاروں کو ٹرپل ون برگئیڈ سے تربیت دی جائے گی تمام صوبوں میں 1ہزار کانٹرٹیرزم فورس تربیت مکمل کرکے گشت پر مامور ہیں ۔وزارت داخلہ نے 3ماہ میں 14کروڑ سمز کی تصدیق کی جس کے باعث دہشت گردی کا استعمال صفر ہو چکاہے 211افراد کوسزائے موت دی گئی ۔

ملٹری کورٹس میں 28مقدمات کا فیصلہ ہوا جبکہ 46زیر سماعت ہیں کوئی بھی کیس سفارش پر ملٹری کورٹ میں نہیں بھیجا جائے گا۔دہشت گردی کی روک تھام کے تحت اب تک 25کروڑ روپے پکڑے گئے جوکہ انتہائی کم ہیں دیگر ممالک میں بھی فنڈنگ کو روکنے کے لیے کوئی مربوط نظام نہیں ہے داعش پاکستا ن میں موجود نہیں ہے عرب تنظیم ہے اگر کوئی اس کانام استعمال کررہاہو یا اس کا حصہ بننے وہ الگ بات ہے ۔

نیکٹا کے 250دفاتر اور فنڈنگ درکار ہیں جبکہ تین دفاتر نہیں بہترین اطلاع پر کئی دہشتگردی کے واقعات کی قبل از اطلاع دی ہے ۔دشمن ختم نہیں ہوا انتہائی بزدل اور کمزور ہے جو چھپ کر حملے کرتا ہے اور عزم کمزور کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے دہشت گردی کے نیٹ ورک بلوچستان ،فاٹا ،پنجاب اور کراچی میں تھے جنہیں ختم کیاگیاہے

متعلقہ عنوان :