حکومت بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس میں طے پانیوالے معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بلا تاخیر اقدامات کرے‘ سی ای او کوتھم

پاکستان میں آج بھی ایسے بہت سے شعبے ہیں جنہیں ترقی دیکر بیرونی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے ‘ احمد شفیق کا اجلاس سے خطاب

اتوار نومبر 15:16

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 نومبر۔2015ء)کالج آف ٹوراز اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد شفیق نے لاہور میں منعقدہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس میں 150سے زائد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے طے پانے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت انہیں عملی جامہ پہنانے کیلئے بلا تاخیر اقدامات شروع کر ے، پاکستان میں آج بھی ایسے بہت سے شعبے ہیں جنہیں ترقی دے کر بیرونی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے جن میں سیاحت سر فہرست ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر کوتھم کی ڈائریکٹر ثمینہ شفیق ،ڈائریکٹر آپریشنز ظہیر احمد ،مینیجر کوارڈی نیشن تنویر ریاض سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ احمد شفیق نے کہا کہ لاہور میں منعقدہ بین الاقوامی سرمایہ کانفرنس میں مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں اور نامور کمپنیوں کے نمائندوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں ۔

اس کانفرنس میں طے پانے والے معاہدے یقینا پاکستان کی ترقی کا باعث بنیں گے ۔ حکومت کو چاہیے کہ ان معاہدوں اور یادداشتوں کو عملی شکل دینے کے لئے بلا تاخیر ہوم ورک شروع کر کے عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے ۔ انہوں نے آئی ایم ایف سے قرض کی قسط کے حصول کے لئے 40ارب کے نئے ٹیکسز عائد کئے جانے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بہت پوٹینشل ہے جسے صرف استعمال میں لانے کی ضرورت ہے ۔

ہمیں اپنی قومی آمدنی میں اضافے کے لئے نئے شعبے اور ذرائع تلاش کرنا ہوں گے ۔ حکومت سیاحت کو ترقی دے کر دیگر شعبوں سے زیادہ آمدنی حاصل کر سکتی ہے بلکہ اس کے ذریعے بیرونی قرضوں سے بھی چھٹکارا مل سکتا ہے ۔ اس شعبے کی ترقی سے ہوٹلنگ اور دستکاری کی صنعت کو بھی عروج حاصل ہوگا جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ گھروں میں کام کرنے والے ہنر مندوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا ۔

Your Thoughts and Comments