پنجاب سیڈ کارپوریشن کیلئے 3ارب32کروڑ 24لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں‘رانا بابر حسین

چھوٹے کسانوں کو قرضہ دینے والے کمرشل اور مائیکرو فنانس بینکوں کو زرعی قرضے پر 50فیصد نقصان کی گارنٹی دینے کی سکیم بنائی گئی سیڈ کارپوریشن کے لئے بڑا بجٹ مختص کرنے سے کسانوں کو وسیع پیمانے پر تصدیق شدہ بیج کی فراہمی یقینی ہوگی‘صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ

اتوار نومبر 16:10

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 نومبر۔2015ء ) صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا بابرحسین نے کہا ہے کہ زراعت اور لائیو سٹاک کی ترقی کے لئے انقلابی اقدامات کئے ہیں، بیرونی سرمایہ کار جانوروں کے فارم بنائیں اور ہمارے بہترین بیج سے فائدہ اٹھائیں، بیرونی سرمایہ کاروں کی ان دونوں شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے بہت مواقع موجود ہیں#،پاکستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے یہاں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کار ہمارے لئے محترم ہیں اور انہیں ایک ہی چھت تلے تمام سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، بیرونی سرمایہ کار یہاں کھلے دل سے سرمایہ کاری کریں، مناسب منافع کمانا ان کا حق ہے اور وہ یہ منافع اپنے ممالک میں بھجوا سکتے ہیں،اندرونی و بیرونی سرمایہ کاروں نے وزیراعظم نواز شریف کی قیادت اور شفاف پالیسیوں پر جس بھرپو راعتماد کا اظہار کیا ہے، ہم ان کے اعتماد کی لاج رکھیں گے،چھوٹے کسانوں کو قرضہ دینے والے کمرشل اور مائیکرو فنانس بینکوں کو زرعی قرضے پر 50فیصد نقصان کی گارنٹی دینے کی سکیم بنائی گئی ہے،جس کے تحت ہر سال پانچ ایکڑ نہری اور دس ایکڑ بارانی ملکیت والے تین لاکھ کسان گھرانوں کو ایک لاکھ روپے تک بغیرقرضے کی سہولت حاصل ہو گی،یہ رقم تیس ارب روپے بنتی ہے ضرورت پڑنے پر حکومت کو پانچ ارب روپے تک کی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے،سیڈ کارپوریشن زراعت میں انقلاب پیداکرنے کااہم ذریعہ ہے ،سیڈ کارپوریشن کے لئے بڑا بجٹ مختص کرنے سے کسانوں کو وسیع پیمانے پر تصدیق شدہ بیج کی فراہمی یقینی ہوگی ،پاکستان کی ترقی کا انحصار زراعت پر ہے اور زراعت کا انحصار اچھے بیج کی دستیابی پر ہے ،،پنجاب سیڈ کارپوریشن کے لئے 3ارب32کروڑ 24لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ،،پنجاب بھر کے کسان سیڈ کارپوریشن پر بہت اعتماد کرتے ہیں ۔

(جاری ہے)

کسانوں کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پوسٹ ہارویسٹ ریسرچ سنٹر فیصل آباد میں قائم ہوچکا ہے جس کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے پھلوں اور سبزیوں کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے ۔ پاکستان میں پھلوں اور سبزیوں کی سا لانہ پیدوار 15ملین ٹن ہے ۔بیس سے چالیس فیصد پیدوار منڈی تک لے جانے کے دوران ضائع ہونے سے کاشتکاروں کا نقصان ہوتا ہے۔

پھلوں اور سبزیوں کی جدید ٹیکنالوجی سے تیار ی اور پیکنگ کے لئے منصوبہ تیار کرلیا ہے جس کے لئے چار کروڑ پچاس لاکھ روپے رکھے گئے ہیں اس منصوبہ کا نام پنجاب فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ڈویلپمنٹ ہے۔انہو ں نے کہاکہ کسان زراعت کے ساتھ لائیوسٹاک پر بھی توجہ دیں۔مویشی پالنے سے وہ معاشی طو رپر خوشحال ہوں گے۔بھیڑوں کی پرورش سے وہ بہترین آمدنی حاصل کرسکتے ہیں۔

بھیڑوں کے باڑے کو زمین سے د و فٹ اونچا رکھا جائے اور ہر چاہ ماہ بعد کرم کش ادویات پلائی جائیں ۔زیادہ گوشت اوراون کے لئے علاقائی نسل کی بھڑیں پالی جائیں ۔کمزور بھڑیں پانے سے کسان کو معاشی طو رپر زیادہ فائدہ نہیں ہوگا ۔زراعت اور لائیوسٹاک باہم منسلک ہیں۔توانائی کے بحران پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔گیس کی بنیاد پر بجلی کے حصول کے3600میگا واٹ منصوبو ں میں غریب قوم کے 110ارب روپے بچائے گئے ہیں اور یہ بچائے ہوئے وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر صرف ہوں گے۔

پنجاب میں سرمایہ کاری کا یہ سنہری موقع ہے کیونکہ پنجاب حکومت نے شفافیت،محنت،دیانت ،تیزرفتاری اور معیار کے اعلی اصول متعارف کرائے ہیں او ر سرمایہ کاروں کے سرمایہ کے تحفظ کیلئے ٹھوس اقدامات کیے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کارمتعلقہ شعبوں میں معاہدے کرے تاکہ ان پر فوری کام کا آغاز ہوسکے۔ کسی معاملے میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی بلکہ آپ کو ترجیح بنیادوں پر سہولتیں دیں گے۔۔پنجاب حکومت کی شفاف پالیسی کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جارہا ہے

متعلقہ عنوان :