آرمی چیف نے 9 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

جمعہ جنوری 11:47

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔یکم جنوری۔2016ء ) آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے حساس ادارے اور مسجد پر حملے سمیت دیگر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث 9 خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر )کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے سزائے موت پانے والے نو دہشتگروں کی سزا کی توثیق کر دی ۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نو مجرمان دہشت گردی سے متعلق جرائم میں ملوث تھے۔ سزائے موت پانے والوں میں دسمبر 2009 میں راولپنڈی کی پریڈ لین مسجد اور ملتان میں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے دفتر پر حملوں میں ملوث دہشت گرد شامل تھے۔جن مجرموں کو سزائے موت دینے کا اعلان کیا گیا ہے ان میں محمد غوری، عبدالقیوم، محمد عمران، اقسن محبوب، عبدالروٴف گجر، شفقت فاروقی، محمد فرحان، محمد ہاشم اور سلیمان شامل ہیں۔

(جاری ہے)

ان افراد کا تعلق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان، سپاہِ صحابہ، القاعدہ اور حرکت الجہاد الاسلامی جیسی شدت پسند تنظیموں سے بتایا گیا ۔ محمد غوری والد جاوید اقبال تحریکِ طالبان پاکستان کا رکن تھا اور راولپنڈی چھاوٴنی میں پریڈ لین کی مسجد پر حملے میں ملوث تھا۔اس کے خلاف چار جرائم کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور فوجی عدالت نے اس سزائے موت سنائی ۔

2009 میں پریڈ لین کی مسجد پر ہونے والے حملے میں افسران سمیت 38 افراد شہید ہوئے تھے۔سزائے موت پانے والے عبدالقیوم ولد امیر حرکت الجہاد اسلام پنجاب کا رکن تھا اور اسے دسمبر 2009 ملتان میں آئی ایس آئی کے دفتر پر حملے میں ملوث ہونے پر سات جرائم کے تحت مقدمہ چلا کر سزائے موت سنائی گئی۔ملتان میں آئی ایس آئی کے دفتر پر حملے میں نو افراد شہید اور 72 زخمی ہوئے تھے۔

سزائے موت پانے والے عبدالروٴف گجر، شفقت فاروقی، محمد فرحان، محمد ہاشم اور سلیمان کا تعلق کالعدم سپاہِ صحابہ سے ہے اور ان پر لاہور میں عام شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا جرم ثابت ہوا ۔بیان کے مطابق انھوں نے مجسٹریٹ کی عدالت میں اعترافِ جرم کیا جس پر انھیں سزائے موت سنائی گئی۔شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق محمد عمران ولد عبد المنان کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے تھا اور یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر 4 حملوں میں ملوث تھا جب کہ اکسن محبوب ولد اصغر علی کا تعلق القاعدہ سے تھا اور اس نے سکیورٹی اداروں پر آگ لگانے والے ہتھیاروں سے حملے کئے۔

ان دونوں کے خلاف چار چار جرائم کے تحت مقدمات چلے اور انھیں بھی سزائے موت سنائی گئی ۔واضح رہے کہ وزیرِ اعظم نواز شریف نے 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان شدت پسندوں کے حملے میں132 بچوں سمیت 141 افراد کی شہادت کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ عنوان :