آرمی چیف جنرل راحیل سے سعودی حکام کی ملاقات،دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال

جمعہ جنوری 12:11

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔یکم جنوری۔2016ء) چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اور سعودی حکام کے درمیان ملاقات میں خطے کی مجموعی سکیورٹی کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (اآئی ایس پی آر) کے جاری بیان کے مطابق ’سعودی عرب کے ملٹری افیر کے اسسٹنٹ وزیر دفاع محمد بن عبداللہ نے جنرل ہیڈکورٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا اور جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔

ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی صورت حال دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ دفاعی تعاون سمیت تربیت کے تبادلے پر بات چیت کی گئی۔خیال رہے کہ آئی ایس پی آر نے یہ واضح نہیں کیا کہ دونوں رہنماوٴں کی ملاقات میں خطے کن سیکیورٹی پہلووٴں پر بات چیت کی گئی ہے جبکہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون بھی کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ دسمبر میں انسداد دہشت گردی کے لیے سعودی عرب کی جانب سے اعلان کیے گئے 34 ممالک کے اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم یہ بھی کہا تھا کہ ریاض سے تفصیلات حاصل ہونے کے بعد ہی مزکورہ اتحاد میں اپنے کردار کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

اس ملاقات کے حوالے سے ایک اندازہ لگایا جارہا ہے کہ سعودی حکام انسداد دہشت گردی کے حوالے سے قائم کیے جانے والے 34 ممالک کے اتحاد میں پاکستانی کردار کی مزکورہ تفصیلات فراہم کرنے کے لیے جی ایچ کیوآئے۔یہ بھی یاد رہے کہ توقع کی جارہی ہے کہ سعودی عرب رواں ماہ جنوری میں ہی مزکورہ اتحاد کا اجلاس طلب کرے گا۔پاک فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوا نے اس بات کی ترید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت میں صرف دو طرفہ تعلقات پر ہی توجہ مرکوز تھی۔

اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات نے ایک نیا رخ اختیار کیا تھا جب پاکستان نے سعودی اسپیشل فورسز کی تربیت کاآغاز کیا تھا جبکہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے تعاون پر سعودی فرماں رواں شاہ سلمان سے مذاکرات کے لیے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے نومبر میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔