اسرائیلی دہشت گردی جاری، فلسطینی نوجوان شہید، شہداء انتفاضہ کی تعداد 144 ہوگئی

جمعہ جنوری 14:16

رام اللہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔یکم جنوری۔2016ء) اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں زخمی ہونیوالا فلسطینی نوجوان موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑ گیا جس کے بعد یکم اکتوبر 2015 ء کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ میں شہداء کی تعداد 144 ہوگئی ہے۔ شادی غبیش شہید کا تعلق مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں الجلزون پناہ گزین کیمپ سے ہے۔

فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق 38 سالہ شادی غبیش کو اسرائیلی فوجیوں نے چند روز قبل ایک احتجاجی ریلی میں شرکت کے دوران گولیاں مار دی تھیں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا تھا۔ اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ کچھ دن موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد گذشتہ روز جام شہادت نوش کرگیا۔ فلسطینی وزارت صحت نے کہا ہے کہ شادی غبیش 4 دسمبر کو اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا۔

(جاری ہے)

اسے 13 دسمبر کو ہسپتال سے ڈسچار ج کردیا گیا تھا تاہم تین روز قبل اچانک اس کی حالت دوبارہ خراب ہوگئی اور اسے ہسپتال لیجایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔ وزارت صحت کے مطابق یکم اکتوبر کے بعد سے فلسطین میں جاری اسرائیلی دہشت گردی میں اب تک شہید ہونیوالے فلسطینیوں کی تعداد 144 ہوگئی ہے۔ شہداء میں 27 بچے جن کی عمریں 18 سال سے کم ہیں بھی شامل ہیں جبکہ 7 خواتین بھی شہید ہوئی ہیں۔ پرتشدد ہتھکنڈوں کے استعمال کے نتیجے میں 16 ہزار فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔

متعلقہ عنوان :