حر یت رہنمایاسین ملک 21 جنوری تک عبوری ضمانت پر رہا

جمعہ جنوری 14:22

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔یکم جنوری۔2016ء)مقبوضہ کشمیر میں عدالت نے لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو ساتھیوں سمیت اکیس جنوری تک عبوری ضمانت پر رہا کردیا جبکہ اس سے قبل ان کے وکیل اور بار جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ بشیر صادق نے عدالت میں دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل عدم تشدد کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے اور ان کیخلاف فساد میں ملوث ہونے جیسے مقدمات درج نہیں کئے جاسکتے خطہ پیر پنجال میں چوبیس دسمبر کو وی ڈی سی کی طرف سے ایک خاتون اور اس کے شیر خوار بچے کو گولیاں چلا کر ابدی نیند سلانے کیخلاف لبریشن فرنٹ نے پچیس دسمبر کو اجتماعی مظاہرہ کیا جس کے دوران محمد یاسین ملک اور ان کے نصف درج سے زائد ساتھیوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تاہم بعد میں مائسمہ علاقے میں زبردست تشدد پھیل گیا اور پتھراؤ کے دوران ایک پولیس افسر شدید زخمی ہواادھر محمد یاسین ملک کیخلاف ایک ایف آئی آر نمبر 47/2015 زیر دفعات 332,335,148,149 اور 152 درج کیا گیا اور انہیں ساتھیوں سمیت سینٹرل جیل سرینگر منتقل کیا گیا اس حوالے سے بار ایسوسی ایشن نے عدالت کا دروازہ کھٹکٹھایا جبکہ جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ بشیر بلال احمد نے سیکنڈ ایڈیشنل جج کی عدالت میں ضمانت کے لئے درخواست پیش کی اس سلسلے میں سیکنڈ ایڈیشنل جج شام لعل للبار نے محمد یاسین اور ان کے دیگر ساتھیوں شوکت احمد بخشی نور محمد کلوال ایڈووکیٹ بشیر احمد بٹ شیخ عبدالرشید انجینئر غلام محمد ڈارعیدی کی ضمانت پر رہائی کے احکامات صادر کئے بار ایسوسی ایشن کی طرف سے ایڈووکیٹ بشیر صادق نے اس کیس کے حوالے سے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے جو رپورٹ عدالت میں پیش کی اس میں کہا گیا کہ محمد یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں کے احتجاجی جلسو کے آغاز میں حراست میں لیا گیا جبکہ اس کے بعد وہ پر تشدد واقعات پیش جس میں پولیس افسر زخمی ہوا