سرگودھا میں برآمدات کے فروغ کیلئے ڈرائی پورٹ قائم کی جائے گی، علاقے میں پیدا ہونے والے پھلوں کی برآمد کیلئے تمام تر سہولیات ایک ہی جگہ میسر ہوں گی، خطے میں پائی جانے معدنیات جپسم ، نمک اور لوہا بھی بیرون ملک برآمد کرنے کا عمل بھی انتہائی سہل ہوجائے گا

وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر کا ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے بورڈ آف ایڈمنسٹریٹرز کے 71ویں اجلاس سے خطاب

جمعرات مئی 21:38

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔26 مئی۔2016ء ) وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ سرگودھا میں برآمدات کے فروغ کیلئے ڈرائی پورٹ قائم کی جائے گی، علاقے میں پیدا ہونے والے پھلوں کی برآمد کیلئے تمام تر سہولیات ایک ہی جگہ میسر ہوں گی، مزید برآں خطے میں پائی جانے معدنیات جپسم ، نمک اور لوہا بھی بیرون ملک برآمد کرنے کا عمل بھی انتہائی سہل ہوجائے گا اور لوگوں کو برآمد کرنے کی ترغیب ملے گی۔

وہ جمعرات کو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے بورڈ آف ایڈمنسٹریٹرز کے 71ویں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ا نہو ں نے کہا کہ ڈٖرائی پورٹ سرگودھا چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور حکومتی تعاون سے چلائی جائے گی، اس علاقے میں تقریباً250کینو پراسیسنگ پلانٹ موجود ہیں ، ڈرائی پورٹ کی عدم موجودگی کی بنا پر کینو کی برآمدات کو کلیرنس کیلئے کراچی لے جایا جاتا ہے جو برآمد کنندگان کیلئے دقت آمیز عمل ہے ۔

(جاری ہے)

ڈرائی پورٹ کے قیام سے تمام کنٹینروں کو ایک مرتبہ چیک کر کے برآمد کیلئے سیل کر دیا جائے گاجس سے برآمد کنندگان کو وقت اور پیسے کی بچت ہوگی۔اجلا س میں کوئٹہ میں پھلوں کے پیکنگ اور پراسیسنگ پلانٹ قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی جس کیلئے ماہرین سے فیزبیلٹی سٹڈی کرائی جائے گی،پلانٹ کوئٹہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پھلوں کے برآمدکنندگان کی ایسوسی ایشن کے تعاون سے چلایا جائے گاجس سے بلوچستان کے زراعت سے وابستہ کسانوں کو اپنی آمدن میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔

بورڈ نے کراچی میں کورنگی ٹینری زون میں بائیو گیس کی مدد سے بجلی کی تیاری کے پراجیکٹ میں توسیع کی منظوری بھی دی،بورڈٖ نے اس ماحول دوست پراجیکٹ کو سراہا اور اس کے انتظامی معاملات کو ماہرین کی زیر نگرانی پروفیشنل انداز میں چلانے کی ہدایت کی۔ بورٖٖڈ نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ سیکریٹریٹ میں پراجیکٹس کے تکنیکی پہلووں کو جانچنے کیلئے ماہر کے تقرر کی بھی منظوری دی تاکہ ای ڈی ایف بورڈ کے سامنے پیش کئے جانے والے منصوبوں کے قابل عمل ہونے کے متعلق بہترین رائے قائم کی جا سکے۔(

متعلقہ عنوان :