کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا مطالبات کے حق میں احتجاج دوسرے روز بھی جاری

حکومت کو مطالبات کی منظوری کیلئے 24 گھنٹوں کا الٹی میٹم،ایمر جنسی کا بھی بائیکاٹ کی دھمکی دیدی

جمعرات مئی 21:55

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔26 مئی۔2016ء) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لگائے گئے احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود ڈاکٹروں نے 24 گھنٹے میں مطالبات کو تسلیم کر نے کا حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ہم احتجاج کر تے ہوئے ایمر جنسی کا بھی بائیکاٹ کر سکتے ہیں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حفیظ مندوخیل نے کہا ہے کہ وائی ڈی اے گزشتہ2 ماہ سے ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، ینگ ڈاکٹرز کی گیارہ ماہ سے بند تنخواہوں، سروس اسٹرکچر اور دیگر مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز ینگ ڈاکٹرز ایوسی ایشن نے سول ہسپتال سے منان چوک تک ریلی نکالی اور دھرنا دیا۔

(جاری ہے)

ینگ ڈاکٹر ز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹرحفیظ مندو خیل کے مطابق وزیراعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے ایک دو روز میں مطالبات کے تسلیم ہونے کا نوٹیفیکشن جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ڈاکٹر حفیظ مندوخیل کا کہنا ہے کہ عوام کے مفاد اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دھرنے کو منان چوک سے پریس کلب کے باہر منتقل کردیا ہے جو تاحال جاری ہے۔

دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کئے تو پھر سخت لائحہ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایمر جنسی کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں محکمہ صحت کے شعبے سے وابستہ ینگ ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین کو ان کے مطابق بلوچستان میں کام کرنیوالے ڈاکٹروں کو مراعات اور سہولیات فراہم کی جائے انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے گزشہ2 ماہ سے اپنی پرامن جدوجہد شروع کر رکھی اور ڈاکٹروں کی پرامن ریلی پر دھاوا بولنے والے پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف تاحال کوئی کارروئی عمل نہیں نہیں لائی گئی جس کے وجہ سے ڈاکٹرز میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اس لئے حکومت فوری طور پر ہمارے مطالبات کو تسلیم کر کے اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرے جبکہ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کے احتجاج کی وجہ سے کوئٹہ شہر کی متعدد سڑکیں بلاک ہونے کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بدھ اور جمعرات کو بھی ڈاکٹروں کے احتجاج اور سڑک بلاک ہونے کی وجہ سے مختلف شاہراہوں پر ٹریفک جام اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے شہری شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہے اس لئے ڈاکٹروں نے اگرحکومت کے خلاف احتجاج کرنا ہے تو وہ کسی اور جگہ کا انتخاب کرے جہاں پر ان کا احتجاج ہو سکے اور شہریوں کو اس سے کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو۔

متعلقہ عنوان :