چیئرمین واپڈا ظفر محمود کی زیرصدارت اجلاس، نیلم جہلم پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا

کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹر نے اجلاس کو منصوبے پر تعمیراتی کام، درپیش مسائل اور منصوبے کی تکمیل کیلئے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں آگاہ کیا منصوبے کی تکمیل کیلئے جن اہداف سے اتفاق کیا گیا تھا، انہیں حاصل کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے،کنٹریکٹر متفقہ اہداف کے مطابق منصوبہ مکمل کرنے کیلئے زیادہ مشینری اور انسانی وسائل بروئے کار لائے ، اجلاس میں ہدایت

جمعہ اگست 20:36

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔19 اگست ۔2016ء ) چیئرمین واپڈاظفر محمود کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں 969 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر تعمیراتی کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ ممبر(واٹر) محمد شعیب اقبال، چیف ایگزیکٹو آفیسر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ انجینئرمحمد زبیر، جنرل منیجر(سنٹرل کنٹریکٹ سیل) ناصر حنیف، پراجیکٹ ڈائریکٹر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نیر علاؤالدین ، پراجیکٹ منیجر نیلم جہلم کنسلٹنٹس ولیم بی ڈوبز(William B.Dobbes) اور پراجیکٹ منیجر ہوکوانگ یوانگ(Hu Quanguang) چائنا گزوبا گروپ آف کمپنیز(کنٹریکٹر) اجلاس میں شریک ہوئے۔

کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹر نے اجلاس کو منصوبے پر تعمیراتی کام، درپیش مسائل اور منصوبے کی تکمیل کیلئے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں منصوبے کی تینوں سائٹس پر جاری تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ موجودہ تعمیراتی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے کی تکمیل کیلئے مقررہ اہداف کے بارے میں تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ چیئرمین واپڈا اور پراجیکٹ ٹیم، جو انجینئرمحمد زبیر کی سربراہی میں اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے، وہ اس بات کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ منصوبے کی تکمیل کیلئے جو اہداف مقرر کئے گئے تھے، انہیں حاصل کیا جائے تاکہ منصوبے کے ذریعے ممکنہ حد تک جلدی بجلی قومی نظام میں شامل کی جاسکے، تاہم نیلم جہلم جیسے دشوار اور پیچیدہ پن بجلی منصوبے کی تعمیر میں پراجیکٹ سیفٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیےٴ۔

اِسی بات کے پیشِ نظر کنٹریکٹر پر زور دیا گیا کہ وہ منصوبے کو پہلے سے متفقہ اہداف کے مطابق مکمل کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ وسائل بروئے کار لائے۔ وزیراعظم کی جانب سے چیئرمین واپڈا کیلئے جاری ہدایات کے تناظر میں قومی نظام میں سستی پن بجلی شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک سے بجلی کی قلت کے خاتمے میں مدد مل سکے ۔ کنٹریکٹر نے منصوبے کی تکمیل کیلئے جس شیڈول پر رضامندی ظاہر کی تھی، اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش دستیاب نہیں ، لہٰذا کنٹریکٹر پر یہ لازم ہے کہ وہ سائٹس پر درکار وسائل میں اضافہ کرتے ہوئے کام کی رفتار کو تیز کرے۔

چیئرمین نے کنٹریکٹر پر زور دیا کہ وہ منصوبے پر مشینری اور انسانی وسائل میں اضافہ کرنے کیلئے مزید رقم خرچ کرے تاکہ منصوبے کو متفقہ شیڈول کے مطابق مکمل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ چائنا ایگزم بنک سے 576ملین امریکی ڈالر کی فراہمی کیلئے معاہدہ متوقع طور پر اگلے ہفتے طے پا جائے گا۔ لہٰذا منصوبے کی پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹر کی مشاورت سے باقی ماندہ کام مکمل کرنے کیلئے اپ ڈیٹڈ کنسٹرکشن شیڈول وضع کیا جائے ۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے ڈیم اور ڈی سینڈر، سرنگوں کی کھدائی، پاور ہاؤس، ٹرانسفارمر زہال اور سوئچ یارڈ پر کام کی رفتار کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ریور کراسنگ ایریا میں سٹیل لائننگ کا کام تیزی سے جاری ہے جبکہ سرنگوں کی کنکریٹ لائننگ کا کام بھی کیا جارہا ہے۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ منصوبے کیلئے بیشتر مشکل اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں اور اب تینوں سائٹس پر تعمیراتی کام تسلی بخش رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ منصوبے پر 83 اعشاریہ پانچ فیصد کام مکمل کیاجاچکا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ واپڈا کی ملکیت نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی بجلی پیدا کرنے کا زیرزمین جدید منصوبہ تعمیر کر رہی ہے۔ اس منصوبے کا 90 فیصد حصہ زیرزمین جبکہ 10 فیصد حصہ زمین کے اوپر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ کنٹریکٹر کی جانب سے اتفاق کئے گئے شیڈول کے مطابق منصوبے کا پہلا پیداواری یونٹ جولائی 2017 ء میں مکمل ہونا ہے، جبکہ باقی تین یونٹس بھی باری باری دسمبر 2017 ء کے آخر تک مکمل ہوں گے۔ منصوبہ اپنی تکمیل پر قومی نظام کو ہر سال پانچ ارب 15 کروڑ یونٹ سستی پن بجلی مہیا کرے گا۔

متعلقہ عنوان :