تحریک حریت کی حریت قائدین اور نوجوانوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت

اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کوکمزور نہیں کیا جاسکتا ٬جدوجہد آزادی کومنطقی انجام تک جاری رکھا جائیگا٬ بیان

منگل اکتوبر 16:53

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اکتوبر2016ء)مقبوضہ کشمیرمیںتحریک حریت جموںوکشمیر نے بھارتی پولیس کی طرف سے حریت قائدین اور تحریک پسند جوانوں پر جھوٹے مقدمات کے اندراج کی شدید مذمت کی ہے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحریک حریت جموںوکشمیر نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں حریت قائدین اور نوجوانوںکے خلاف جھوٹے مقدمات درج کر کے انہیں دھمکیاں دینے کے عمل کو سرکاری ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قراردیتے ہوئے کہاہے کہ وادی کشمیرمیں بھی فورسز پولیس اہلکار اور کٹھ پتلی انتظامیہ جموں کی طرز پر حریت پسند عوام کو خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ مختلف اضلاع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تما دیہات اور بستیوں میں حریت پسند گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں پر ایف آئی آر درج کرکے اٴْنہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیںاورانہیں خبردار کیاجارہا ہے کہ اگر انہوںنے آزادی کے حق میںمظاہروں اور جلوسوں میں شرکت کی تو انکے خلاف کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کردیاجائیگا۔

(جاری ہے)

تحریک حریت نے پارٹی کے ضلع کپواڑہ کے قائمقام صدرفاروق احمد بٹ کو بھی پولیس اسٹیشن حاضر نہ ہونے کی صورت میں جائیداد ضبط کرنے کی دھمکی دینے اور صدر تحصیل بانڈی پورہ کے گھر پر رات کے وقت چھاپے اور ہندواڑہ میں غلام قادر گنائی اور غلام احمد گنائی کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی بھی شدید مذمت کی ۔بیان میں تحریک حریت نے خبردار کیاہے کہ ان ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کوکمزور نہیں کیا جاسکتا اور جدوجہد آزادی کواسکے منطقی انجام تک جاری رکھا جائیگا اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیاجائیگا ۔