مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو اور پابندیاں عائد

بھارتی فورسز کی طرف سے سرینگراوربڈگام میں محرم کے جلوسوںپرطاقت کا و حشیانہ استعمال

منگل اکتوبر 16:53

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اکتوبر2016ء)مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے لوگوں کو بھارت مخالف مظاہروں اور نومحرم کا جلوس نکالنے سے روکنے کیلئے وادی کشمیر میں کرفیو اور دیگر پابندیوں نافذ رکھیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سرینگر کے علاقے شمس واری میں بھارتی فورسز نے عزاداروں کو محرم کا جلوس نکالنے سے روکنے کیلئے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا ۔

تاہم جلوس کے شرکاء حبہ کدل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں جلوس اختتام پذیر ہوا ۔ بڈگام میں بھی بھارتی فورسزنے عزاداروں کو محرم کا جلوس نکالنے سے روکنے کیلئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔ بھارتی پولیس کے ایک سینئر افسر نے سرینگر میںصحافیوں کو بتایا ہے کہ نوہٹہ ٬ خانیار ٬ رعنا واری ٬ صفاکدل اور مہاراج گنج پولیس اسٹیشنوں کی حدود میں لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔

وادی کشمیر میں آج مکمل ہڑتال کی وجہ سے 95ویں روز بھی نظام زندگی معطل رہا ۔ قابض انتظامیہ نے سید علی گیلانی ٬ میر واعظ عمر فاروق٬ شبیر احمد شاہ٬ محمد یاسین ملک٬آغا سید حسن الموسوی الصفوی٬ نعیم احمد خان٬ مولانا عباس انصاری٬ جاوید احمد میر٬ ظفر اکبربٹ٬ نور محمد کلوال٬ ایاز اکبراور دیگر حریت رہنمائوںکومسلسل گھروں اور جیلوں میں نظربندکررکھا ہے۔

اس اقدام کا مقصد حریت رہنمائوں کو بھارت مخالف مظاہروں اور محرم الحرام کے جلوسوں کی قیادت سے روکنا ہے۔ واضح رہے کہ قابض انتظامیہ نے 1989سے محرم الحرام کے جلوسوں پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ دریں اثناء شوپیاں میں دستی بم کے دھماکے میںشہریوں اور بھارتی فوج کی سینٹرل ریزروپولیس فورس کے چار اہلکاروںسمیت بارہ افراد زخمی ہو گئے۔

Your Thoughts and Comments