تین ماہ سے بلاجواز انتظامی قید کیخلاف بھوک ہڑتال کرنیوالے فلسطینی قیدی کی حالت تشویشناک، انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل

منگل دسمبر 13:54

بیت لحم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 دسمبر2016ء) فلسطین میں انسانی حقوق کے کارکنان نے کہا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے بلا جواز انتظامی قید کیخلاف بھوک ہڑتال کرنیوالے فلسطینی انس شدید کی زندگی خطرے میں ہے۔ اسیر کی زندگی بچانے کیلئے اسے انتہائی نگہداشت وارڈ منتقل کیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اسیر فلسطینی کی خاتون وکیل احلام حداد نے میڈیا کو بتایا کہ اس کے موکل بھوک ہڑتالی قیدی انس شدید کو’اساف ھروفیہ‘ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈمنتقل کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

حداد نے بتایا کہ اسیر شدید کی طویل بھوک ہڑتال کے بعد اس کی زندگی خطرے میں ہے۔ اس نے کھانا پینا مکمل طور ترک کردیا ہے اور وہ مسلسل بے ہوش ہے۔حداد نے بتایا کہ انس شدید کے ساتھ ساتھ بھوک ہڑتال شروع کرنے والے دوسرے قیدی ابو فارہ کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ دونوں اسیران نے رہائی یاموت تک بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی ملٹری پراسیکیوٹر جنرل مسلسل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔بھوک ہڑتال کرنے والے ایک اور فلسطینی عمار الحمور کی حالت بھی تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔ فلسطینی محکمہ امور اسیران کے چیئرمین عیسیٰ قراقع کاکہنا ہے کہ الحمور کی بھوک ہڑتال کے دوران اس کا وزن بیس کلوگرام کم ہوگیا ہے۔

متعلقہ عنوان :