جب کوئی کارروائی کارگر ثابت نہیں ہو رہی تو بھارت نے اپنی عدلیہ سے الٹے کام کروانا شروع کر دیئے‘شاہ غلام قادر

بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کو گولی اور بارود کے ذریعے غلام رکھنے کی ہمیشہ سے ناکام کوشش کرتا چلا آ رہا ہے‘سپیکر قانون ساز اسمبلی

منگل دسمبر 13:51

نیلم(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 دسمبر2016ء) سپیکر قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر شاہ غلام قادر نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلہ پر کہا ہے کہ بھارت جو کہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کو گولی اور بارود کے ذریعے غلام رکھنے کی ہمیشہ سے ناکام کوشش کرتا چلا آ رہا ہے جب اس پر کشمیریوں کی دلیری اور جرات عیاں ہوتی گئی تو بھارت نے ہر حربہ کشمیریوں کے سامنے نہ ٹھہر سکا اور یوں آئے روز موبوضہ کشمیر میں کشمیری بھارت کو یہ سکھاتے ہیں کہ تمھاری بزدل افواج ہمارے حوصلے کسی طرح بھی کم نہیں کر سکتی اور تمہیں ہر حال میں کشمیریوں کو آزادی دینی ہے۔

شاہ غلام قادر نے کہا کہ جب بھارت پر ہر ظرح سے یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ کشمیری ہر حال میں آزادی حاصل کر کے پاکستان کا حصہ بننے پر ہر قربانی بخوشی دے رہے ہیں اور ان کو دبانے کی کوئی کارروائی کارگر ثابت نہیں ہو رہی تو بھارت نے اپنی عدلیہ سے الٹے کام کروانا شروع کر دئیے یہاں تک کہ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ وادی کی ہائی کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے یہ قرار دیا کہ کوئی بھی بھارتی یا غیر ریاستی مقبوضہ کشمیر میں جائیداد کی خرید و فروخت کر سکتا ہے اور فیصلہ میں مزید کہا گیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور بھارت کا ہر ظرح سے حصہ ہے اور بھارت آئین کے ماتحت ہے اور مقبوضہ کشمیر کو کسی عمل میں خودمختاری حاصل نہیں۔

شاہ غلام قادر نے مزید کہا کہ بھارت چاہتا ہے کہ اس فیصلہ کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر کی ہیت کو تبدیل کر دیا جائے تاکہ استصواب رائے کے دوران مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ بھارت اپنی مرضی سے کروا سکے جبکہ بھارت کو معلوم ہونا چاہئے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ ہے اور اس ضمن میں کوئی پارلیمنٹ یا عدالت ہیت تبدیل نہیں کر سکتی۔ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ اختیارات سے سنگین تجاوز ہے اور ناقابل عمل ہے انہوں نے کہا کہ بھارت کو ہوش کے ناخن لینا چاہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں پر عملدآمد کو یقینی بنانے کے لئے اہتمام کرنا چاہئے تاکہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں اور بھارت کو بد نیتی کی روش ترک کرنی چاہئے۔

Your Thoughts and Comments