وزیراعظم نواز شریف نے صوبوں کی مخالفت نظرانداز کرکے 5 اہم ترین ریگولیٹری باڈیز کے انتظامات متعلقہ وزارتوں کے سپرد کردیئے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل دسمبر 14:44

وزیراعظم نواز شریف نے صوبوں کی مخالفت نظرانداز کرکے 5 اہم ترین ریگولیٹری ..

ا سلام آباد(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔20 دسمبر۔2016ء) وزیراعظم نواز شریف نے صوبوں کی مخالفت نظرانداز کرکے اہم فیصلہ کرتے ہوئے 5 اہم ترین ریگولیٹری باڈیز کے انتظامات متعلقہ وزارتوں کے سپرد کردیئے، اس فیصلے سے بظاہر ان اداروں کی آزادی پر سمجھوتہ کیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم نے بزنس رولز 1973 کے آرٹیکل 3(3) کے تحت ریگولیٹری اداروں کو کابینہ ڈویژن کی متعلقہ ڈویژنز کے ماتحت کردیا گیا ہے۔

کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو پانی و بجلی ڈویژن کے ماتحت، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کی ڈویژن، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ (ایف اے بی) کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام ڈویژن کے ماتحت جب کہ پبلک پروکیومنٹ ریگولیٹر اتھارٹی (پپرا) کو فنانس ڈویژن کے ماتحت کردیا گیا۔

ان ریگولیٹری باڈیز کو گذشتہ کئی حکومتوں میں کیبنٹ ڈویژن کے تحت کیا گیا تاکہ وہ چھٹیوں، بیرون ملک دوروں اور بھرتیاں کرنے جیسے معمول کے انتظامی امور کے بجائے فیصلہ سازی میں آزادی کا لطف اٹھا سکیں۔ ذرائع کے مطابق 2 اداروں نیپرا اور اوگرا کی جانب سے ٹیرف معاملات سمیت دیگر عوامی فوائد سے متعلق وزارتوں کے احکامات نہ ماننے کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ وزارت پانی و بجلی اور پیٹرولیم نے وزیراعظم سے مسلسل ان اداروں کی شکایات کی تھیں۔وزارتوں نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ریگولیٹری ماحول تبدیل کیے بغیر نندی پور پاور پروجیکٹ اور ساہیوال کول پروجیکٹ کو اقتصادی طور پر مضبوط اور قابل عمل نہیں بنایا جاسکتا اور نہ ہی ان اداروں کو بجلی اور گیس کی تقسیم میں ہونے والے سسٹم لاسز (نقصان) کو صارفین کو منتقل کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

وزارتوں نے اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ توانائی کے بڑے منصوبوں کے مسلسل چیلنجز کا سامنا کرنے سے حکومت کی جانب سے 2018 میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کے وعدے پورے نہیں ہوسکیں گے۔ وزارتوں کی شکایات کے بعد متعلقہ اداروں کی منتقلی کا ایجنڈا مشترکہ مفادات کونسل کے 16 دسمبر کو ہونے والے اجلاس میں شامل کر دیا گیا تھا، مگر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے تحریری طور پر اداروں کی منتقلی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلے عوامی مفادات کے خلاف ہیں اور ایسے فیصلوں سے ان کے صوبے پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے، ایسے فیصلے جلد بازی میں نہیں کیے جانے چاہئیں اور اسے اجلاس کے ایجنڈے سے واپس لیا جانا چاہیئے۔

ذرائع کے مطابق اداروں کی منتقلی سے متعلق سمری کو اجلاس کے ایجنڈے سے واپس لے لیا گیا تھا، اجلاس میں پریزنٹیشن کے دوران معاملے کو پھر اٹھایا گیا، جس پر سندھ اور خیبرپختونخوا کی جانب سے ایجنڈے میں شامل نہ ہونے کے باوجود یہ معاملہ اٹھانے پر احتجاج کیا گیا۔دونوں صوبوں کو کہا گیا کہ وہ مجوزہ سمری کو پڑھیں، جس میں کہا گیا ہے کہ اسے متعلقہ قوانین میں جامع ترامیم کرنے کے بعد اور قانونی ماہرین کی رائے لینے کے بعد مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ اجلاس میں باقاعدہ طور پر اٹھایا جائے گا۔

ورلڈ بینک نے بھی ریگولیٹرز کو متعلقہ وزارتوں کے ماتحت کرنے کی مخالفت کی تھی ، ورلڈ بینک نے ایسا کرنے پر اصلاحاتی قرضہ روکنے کی تنبیہ بھی کی تھی ، کابینہ ڈویژن کی جانب سے گیس و بجلی کے ریگولیٹرز ، نیپرا ،اوگرا کو متعلقہ وزارتوں کے ماتحت کرنے کی سمری 15 دسمبر کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کی جانی تھی ، لیکن 16 دسمبرکو سندھ اور خیبر پختونخوا کی مخالفت پر مجوزہ سمریوں کو ایجنڈے میں سے نکال دیا گیا تھا اور صرف نو نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا تھا ، جن میں ان ریگولیٹرز کی سمریاں شامل نہیں تھیں ، مجوزہ ترامیم کے مطابق ان ریگولیٹرز کو وفاقی حکومت کی طرف سے بھجوائی جانے والی “پالیسی گائیڈلائنز ” کا پابند بنایا جا سکے گا۔

پاور سیکٹرز کے دونوں ریگولیٹرز نے وفاقی حکومت کی طرف سے کی جانے والی قانونی تبدیلیوں کی مخالفت کی ہے۔ نیپرا اور وفاقی حکومت کی طرف سے حال ہی میں سالانہ بجلی ٹیرف ، نندی پور پاور منصوبہ ، لاہور مٹیاری منصوبہ اور ایل این جی کے منصوبوں سمیت کوئلہ اور شمسی توانائی کے ٹیرف میں متعد د بار تبدیلی اور اختلافات اس قانونی تبدیلی کے پیچھے چند محرکات ہیں۔

وفاقی وزارت پانی و بجلی کے مطابق نیپرا پرائیویٹ پاور سیکٹر کو ریگولیٹ کرنے کے بجائے وفاقی وزارت پانی و بجلی کے زیر انتظام پیدا اور ترسیل ہونے والی بجلی کو ریگولیٹ کرنے پر توجہ دیئے ہوئے ہے اور جس سے وفاقی حکومت کی کارکردگی متاثر ہو رہی تھی۔ نیپرا ایکٹ 1997میں کی جانے والی تبدیلیوں سے واقف ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی طر ف سے جاری کردہ پالیسی گائیڈ لائنز پر پاور ریگو لیٹر ،نیپرا اور اوگرا کیلئے بغیر کسی عذر کے عمل درآمد کرنا لازمی ہو گا۔

ایک اور افسر کے مطابق نیپرا گزشتہ دس برس سے وفاقی حکومت کی طرف سے کی جانے والی من مانیوں کی مخالفت کرتی رہی ہے ، جس میں پاور و گیس کے نظام کے حد سے زائد نقصانات اور بلوں کی غیر وصولیاں شامل ہیں ، جبکہ وفاقی حکومت ان دونوں سے بچنے کیلئے ہمیشہ سرچارجز عائد کر کے نقصانات کو پورا کرتی رہی ہے۔ اسی طرح اوگرا جو کہ ہمیشہ حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کرتی رہی ہے ، کے ایکٹ میں تبدیلیاں بھی تجویز کی گئی ہیں ، جس کے تحت اتھارٹی کیلئے وفاقی حکومت پالیسی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کرنا لازمی ہو گا۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت بجلی اور پٹرولیم کی وزارتوں کو ایک ہی وزارت میں ضم کرنا چاہتی تھی اور وفاقی حکومت کے سالانہ پلان 2015-16 میں ان دونوں ریگو لیٹرز کے ادغام کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments