لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے اراکین اسمبلی کو براہ راست ترقیاتی فنڈز جاری کرنے سے روک دیا

منگل دسمبر 15:12

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے اراکین اسمبلی کو براہ راست ترقیاتی فنڈز ..
لاہور۔20 دسمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 دسمبر2016ء) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے اراکین اسمبلی کو براہ راست ترقیاتی فنڈز جاری کرنے سے روک دیا، عدالت نے حکم دیا ہے کہ فنڈز اراکین اسمبلی کے ناموں کی بجائے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر جاری کئے جائیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر رکن اسمبلی شنیلا روتھ کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی، خاتون ایم پی اے کی طرف سے شیراز ذکا ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت اپوزیشن کے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کے اجرا میں امتیازی سلوک کا نشانہ بنا رہی ہے، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق اراکین اسمبلی کے ساتھ ترقیاتی فنڈز کے اجرا میں امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اراکین اسمبلی کو براہ راست فنڈز جاری کئے جا سکتے ہیں، سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اراکین اسمبلی کو قانون کے مطابق فنڈز جاری کئے جاتے ہیں، عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد انٹراکورٹ اپیل منظور کرتے ہوئے پنجاب کے اراکین اسمبلی کو براہ راست ترقیاتی فنڈز جاری کرنے سے روک دیا، عدالت نے حکم دیا ہے کہ فنڈز اراکین اسمبلی کے ناموں کی بجائے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر جاری کئے جائیں، تمام اراکین اسمبلی سیکرٹری خزانہ اور چیف سیکرٹری پنجاب کے روبرو اپنی ترقیاتی سکیمیں جمع کرائیں اور پنجاب حکومت ان ترقیاتی سکیموں کو قانون کے مطابق مساوی بنیادوں پر زیر غور لائے۔