روسی سفیر پر حملے کا مقصد ترکی اور روس کے تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے لیکن دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے،مرحوم انڈرے کارلوف انتہائی کامیاب اور دور اندیش سفارتکار تھے،یہ حملہ ترکی اور روس کے عوام پر کیا گیا ہے

ترک وزیر خارجہ چاوش اولو کی ماسکو پہنچنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو

منگل دسمبر 16:00

انقرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 دسمبر2016ء) ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے روسی سفیر پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کا مقصد ترکی اور روس کے تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے لیکن دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے ۔غیر ملکی میڈیاکے مطابقترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو شام کے موضوع پر ہونے والے اجلاس میں شرکت کی غرض سے ماسکو پہنچ گئے یہاں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مرحوم انڈرے کارلوف ترکی اور روس کے تعلقات کے کٹھن دور میں کامیاب سفارتی کوششیں کرنے والے ایک دور اندیش سفارتکار تھے ۔

ان پر ہونے والا یہ حملہ ترکی اور روس کے عوام پر کیا گیا ہے ۔ قلیل مدت میں اس مذموم حملے کا ہر پہلو کیساتھ جائزہ لیتے ہوئے اسے منظر عام پر لایا جائے گا ۔

(جاری ہے)

روسی ماہرین کیساتھ مل کر حملہ آور کے پس پشت عناصر کو تلاش کیا جائے گا ۔ انھوں نے کہا صدر پوتن نے اس قاتلانہ حملے کی مل جل کر تحقیق کرنے کی جو تجویز پیش کی ہے صدر ایردوان نے اس کا مثبت جواب دیا ہے ۔روسی ماہرین عنقریب ہی ترکی پہنچ رہے ہیں ۔۔ترکی اور روس کی تحقیقاتی ٹیم اس حملے کی مل جل کر تحقیق کرئے گی ۔چاوش اولو نے کہا کہ کارلوف کامیاب ترین سفارتکار تھے انھوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کے سرد مہری کے دور میں سفارتی کوششوں اور انتہائی دانشمند فیصلوں کیساتھ ان تعلقات کو بہتر بنایا ہے ۔