محکمہ زراعت کا پھلوں کی مکھیوں اور کپاس کے کیڑوں کو تلف کرنے کا بڑا منصوبہ،برآمدات میں اضافہ ہوگا

اتوار جنوری 12:30

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جنوری2017ء)محکمہ زراعت نے زونیٹا اور ڈارسیلوز نامی خطر ناک مکھیوں کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا لیا ، یہ دونوں اقسام پھلوں سخت نقصان پہنچاتی ہیں اس طرح سفید مکھی ،گلابی سنڈی اور ملی بگ اور دیگر کیڑوں کو تلف کرنے کے لئے بھی حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے، ان تینوں کیڑوں کو ختم کرنے سے کپاس کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوگا ،پھلمکھی کی سال میں 13نسلیں جنم لینے سے پھلوں کو نقصان پہنچنے کے امکانات میں غیر معمولی اضافہ روکنے لئے نیا لائحہ عمل ترتیب دے دیاگیا ہے ۔

پھل کی مکھی نرم پھل پر ڈنگ مار کر اس کے اندر انڈے دیتی ہے جو بعد میں سنڈی اور پروانہ بن کر ظاہر ہوتے ہیں اور اگلی نسل تیار کرتے ہیں۔ سال میں کم از کم اس کی 10 سے 13 نسلیں چلتی ہیں۔

(جاری ہے)

پاکستان میں اس کی دو اقسام قابل ذکر ہیں جن میں زونیٹا اور ڈارسیلوز پائی جاتی ہیں۔دنیا بھر میں پسند کئے جانے والے پاکستان کے تین اہم ترین پھلوں کی برآمدات میں رکاوٹ ختم کرنے کے لئے 227.610 ملین روپے کا منصوبہ شروع ہوگیا ہے ، اس منصوبہ سے آم ،امردواورکینو کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے ، اس منصوبہ کی کل لاگت 227.610 ملین روپے ہے ۔

منصوبہ کے تحت 3 پھل آم، ترشاوہ ، امرود کے باغات کا چنائوں کیا گیا ہے۔ اس منصوبہ کا انعقاد صوبہ پنجاب کے 30 اضلاع میں ہوگا جس میں سے 15اضلاع میں میتھائل یوجینال ، پروٹین ہائیڈرو لائسیٹ، میلاتھیان اور پلاسٹک ٹریپ) پر 50% سبسڈی دی جارہی ہے۔