یورپ چھوڑنے کے لیے حکومت مذاکرات شروع کرے،برطانوی دارالعوام

جمعرات فروری 20:09

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری2017ء) برطانوی پارلیمان میں ایوانِ زیریں کے اراکین نے بھاری اکثریت کے ساتھ ایک ایسے بل کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں جس کے ذریعے وزیراعظم تھریسا مے کو بریگزٹ کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔معروف غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے ’یورپی یونین بل‘ کی لیبر پارٹی نے بھی حمایت یی اور اس کے حق میں 114 کے مقابلے میں 498 ووٹ ڈالے گئے۔

(جاری ہے)

تاہم لیبر پارٹی کے 47 اراکینِ پارلیمنٹ نے اپنی پارٹی کے موقف سے بغاوت کی۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعت ایس این پی، اور لبرل ڈیموکریٹس نے اس بل کی مخالفت کی۔قانون بننے سے پہلے ابھی اس بل کو ایوانِ زیریں اور ہاؤس آف لارڈز یعنی ایوانِ بالا میں مزید جانچ پڑتال کا سامنا ہوگا۔ آئندہ ہفتے اسے قانون کے طور پر ایوانِ زیریں میں پیش کیا جائے گا۔وزیراعظم تھریسا مے نے لسبن معاہدے کے آرٹیکل 50 کے ذریعے ای یو کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے لیے 31 مارچ کی حتمی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔

متعلقہ عنوان :